خطبات محمود (جلد 2) — Page 262
۲۶۲ لة قریب قریشی ہیں ۔ اور اس طرح تمام دنیا کی قریبا پانچ فیصدی آبادی ابراہیمی نسل سے ہے۔ اللہ تعالے نے آپ کی نسل کو اس قدر صرف اس لئے بڑھایا کہ وہ اپنے آپ کو نیز اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کی راہ راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے گئے تھے تھے ۔ ۔ اور اور حضرت حضرت ابراہیم ابرام کی یہ قربانی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ اولاد قربان کرنے سے نسل بڑھتی ہے ۔ اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی نسل بڑھے اور پھیلے اور اسے اور اس کی نسلوں کو عزت ملے تو اس کا طریق یہ ہے کہ اپنی اولاد کو دین کی راہ میں مہربان کر دے ۔ یہ ایک ایسا گڑ ہے کہ ہمارے دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی نسلیں دنیا پر چھا جائیں اور ہزاروں سال تک ان کا نام عزت کے ساتھ زندہ رہے تو تو وہ وہ اسوہ اسوہ ابنہ ابد اہیمی پر عمل پیرا ہوں ۔ حضرت ابو ابراهیم کیا تھے ایک معمولی رئیس تھے۔ جن کے پاس شاید چار پانچ سو نجریاں ہوں گی ، سو دو سو اونٹ ہوں گے جو آج ہزاروں لوگوں کے پاس ہیں۔ مگر ان کا کسی کو علم بھی نہیں ہوتا لیکن حضرت ابراہیم کی پاو ساری دنیا میں قائم ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالے نے ان کی نسل کو وسعت دی اور اب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے کر ان کی روحانی اولاد بھی بہت سی بنا دی ہے اور اس طرح اور بھی علات قائم کر دی ۔ آج یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی یہودی حضرت ابراہیم کے لئے گالی برداشت کرے مگر کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا ۔ یہودی آپ کی ذریت سے ہیں مگر کوئی یہودی آپ کے لئے روزانہ دعا نہیں کرتا ہو گا۔ لیکن مسلمان دن میں پانچ وقت اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْراهیم كتاب کہتا ہے اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بھی دعا ساتھ حضرت ابراہیم کے سے لیئے دعا کرتا ہے۔ یہ برکت حضرت ابراہیم کو اس قربانی کی وجہ سے ملی۔ اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت ابراہیم کے ساتھ اللہ تعالے کا کوئی رشتہ نہ تھا جو ان کو اتنی برکت دیدی ۔ ہر شخص جو آپ کے نقش قدم پر چلے اور اپنے نفس اور اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دے ان برکات سے حصہ پاسکتا ہے جو اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم کو عطا کیں ۔ پس اس عید سے یہ سبق سیکھا جائے تو یہ ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو سکتی ہے۔ ورنہ یہ ہمارے لئے خوشی کا نہیں بلکہ علامت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ ہر سال یہ عید آکر ہمیں اپنے فرض منصبی کی طرف متوجہ کرتی ہے مگر ہم پھر بھول جاتے ہیں ۔ پس دوستوں کو یہ سبق اچھی طرح یاد رکھنا چاہئیے اور کوشش کرنی چاہئیے کہ حضرت ابراہیم کے نقش قدم پر چلیں ۔ اللہ تعالے ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ، میں اسی پر خطبہ کو ختم کرتا ہوں ۔