خطبات محمود (جلد 2) — Page 19
۱۹ ۔ ڈالنے سے کروڑوں کروڑہ دانے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ دنیا میں تو گیہوں بولنے والا گیہوں ہی کاٹتا ہے اور جو ہونے والا جو ۔ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک دانہ سے کئی قسم کے پھل اور ، میوے حاصل ہوئے۔ انہیں بچے بھی ملے ، سلطنت بھی ملی، دولت بھی ملی ، عزت بھی ملی غرضیکہ ہر ایک چیز حاصل حاصل ہوا ہوئی ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے ے کہ کہ خدا خدا تھا۔ تعالے کے لئے قربانی کرنے سے سے اس کے نتیجہ میں کئی قسم کی کھیتیاں نکلتی ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ایک بچہ کو قربان کیا تھا اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ نے ان کو نے ان کو کہا کہ جس طرح آسمان کے ستارے نہیں گئے نہیں گئے جاتے اسی طرح تیری نسل بھی نہیں گئی جائے گی یہ اب نہیں گنی جائے گی کہ اب دیکھ لو، کوئی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو گن سکے جس قدر دنیا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے آدمی ہیں اس قدر کسی اور انسان کی نسل ہرگز نہیں مل سکتی ۔ اور یہ نسل اتنی پھیلی ہے کہ آسمان کے ستاروں کی طرح گئی نہیں جا سکتی ۔ پھر اگر روحانی طور پر دیکھا جائے تو تما جائے تو تمام دنیا کا بیشتر حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے انا ہے پھر مال و دولت کے لحاظ سے دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ قریبا چار ہزار سال تک ان کی نسل یا ان کے متبعین کے ہاتھوں میں حکومت رہی اور اب عیسائی حکومت کر رہے ہیں۔ وہ بھی آپ کو مانتے ہیں۔ روحانیت کے لحاظ سے دیکھو تو دیکھو تو جتنے بڑے بڑے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد گزرے ہیں وہ آپ ہی کی نسل سے تھے۔ حضرت موسی ، حضرت عیسی اور انحصرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی کی نسل سے تھے ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام د علیہ السلام نے بھی لکھا ہے ۔ کہ میں بھی اسحق کی نسل سے ہوتی ہے۔ اس لئے آپ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی نسل سے ہوئے۔ غرض کوئی نعمت ایسی نہیں جو ان کو حاصل نہ ہوئی ۔ دنیا کے لحاظ سے حکومت اور طاقت روحانیت کے لحاظ سے دولت نسل کے لحاظ سے سب سے زیادہ نسل آپ کو دی گئی بودی کی اور وہ جگہ جو اس وقت تک بھی غیر ذی زرع ہے اس کو ایسی برکت نصیب ہوئی کہ اب سب کچھ وہاں پہنچتا ہے بلکہ مکہ کے رہنے والوں کو کوئی کام ہی نہیں کرنا پڑتا ۔ ان کو مکانوں کا کرایہ ہی اس قدر آجاتا ہے کہ ان کے لئے کافی ہوتا ہے ۔ ایک سو سے لے کر دو تین سو تک ایک چھوٹے سے مکان کا کرایہ لیتے ہیں ۔ پھر وہاں لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ان کی تجارت خوب چلتی ہے ۔ اور وہ ان سے خوب نفع کماتے ہیں۔ پھر وہی زمزم کا چشمہ جو خدا تعالے نے حضرت اسمعیل کے لئے کھولا تھا۔ اسی کے پانی کی تجارت کرتے ہیں ،ایک چھوٹے سے مٹی کے برتن میں پانی بھر کر لے جاتے ہیں جسے زمزمی کہتے ہیں اور دو روپے لے لیتے ہیں۔ غرض اس جگہ کو بھی خدا تعا لئے نے ایسا آباد کیا کہ اس کی نظیر اور کہیں نہیں مل سکتی ۔ اور حضرت ابراہیم کی نسل کسی رنگ میں ۔ بھی گھاٹے میں نہ رہی۔ دنیا کی کوئی نسل اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ در اصل وہ قربانی ایک پیج