خطبات محمود (جلد 2) — Page 260
۲۶۰ شو خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ دیکھو کتنا ز بر دست ایمان اور عظیم الشان یقین ہے ۔ حضرت ہاجرہ کا یہ ایمان اور یقین ہی تھا جس نے حضرت ابراہیم کے ایمان اور یقین سے مل کر مکہ کو ایک آباد شهر بنا دیا ۔ دنیا کی عورتوں میں اس کی مثالیں بہت کم مل سکتی ہیں ۔ اول تو عورت ہوتی ہی کمزور دل کی ہے۔ لیکن اگر کسی سے کہا جائے کہ آگ میں جل جاؤ یا چھری سے اپنے آپ کو ذبح کر لو، تو یہ نسبتاً آسان ہے بجائے جنگل میں بھوکا مرنے کے۔ جہاں اور بھی خطرات ہوں۔ ممکن ہے شیر یا کوئی چیتا آنکہ ہلاک کر دے یا پیاس سے تڑپنا پڑے اور بھوک سے مرنا ہو۔ پھر اس کے علاوہ ایک اور بات ہے۔ اور وہ یہ کہ ماں اپنی موت قبول کر سکتی ہے مگر اپنے بیچنے کی ایسی درد ناک موت کو یہ داشت نہیں کر سکتی کہ اس کا اکلوتا لڑکا پانی کے گھونٹ اور روٹی کے نعیمہ کے لئے ایڑیاں رگڑ کر مر جائے۔ پھر حضرت ہاجرہ کے دل میں یہ وسوسہ بھی پیدا ہوتا ہو گا کہ ممکن ہے پہلے میں مرجاؤں اور بچہ بعد میں تڑپ تڑپ کر جان دے۔ اس قسم کے خطرات کے باوجود ان کا اس با وجود ان کا اس قربانی کے لئے تیار ہو جانا ایسی بہت کا کام ہے جو ہمیشہ کے لئے یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ وہ ان سب صدمات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو گئیں۔ اور اپنی اور اپنے بچہ کی موت کے خوف کے باوجود اس دن - دن کے انتظار کے لئے آمادہ ہو گئیں اللہ تعالے مکہ کو ایک شہر بنا دے گا۔ ہوئیں ۔ جب یہ قربانی ہمیں بتاتی ہے ، کہ انسان مومین کامل اس صورت میں بن سکتا ہے جب وہ خدا نغالے کے سامنے اپنے آپ کو اس رنگ میں ڈال دے کہ اسے کسی خطرہ کی پرواہ نہ ہو۔ بھوک اور پیاس کی تکلیف کا احساس مٹ جائے۔ اور وہ دوستوں اور مدد گاروں سے بالکل بے نیاز ہو جائے۔ یہ قربانی اپنے اندر ہر قسم کی قربانی رکھتی ہے۔ اس میں وطن کی قربانی بھی ہے رشتہ دارد اور دوستوں کی قربانی بھی ہے ۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ ڈر سے بچ جائے مگر اس قربانی میں اطمینان کی قربانی بھی شامل ہے ۔ گویا آرام کی ساری صورتیں یہاں مفقود تھیں۔ ساتھی نہ تھے بیوطنی تھی۔ بھوک پیاس سے بچنے کے سامان نہ تھے ، اطمینان کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ کو توفیق دی۔ اور انہوں نے ان سب خطرات کو قبول کیا۔ اور سمجھ لیا کہ جب میں خدا تعالے کے لئے قربانی کرتی ہوں تو وہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ سب انبیاء کی جماعتوں کو درجہ بدرجہ قربانی کرنی پڑتی ہے۔ اس وقت جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے اکثر ہیں جن کو اپنے وطن قربان کرنے پڑے ۔ پھر اب تو قادیان میں حالات حالات کچھ درست ہو ہوئے رگئے ہیں اور کچھ تجارتیں چل نکلی ہیں مگر جو لوگ ابتدائی زمانوں میں یہاں آئے، ان کے گزارہ کی یہاں کوئی صورت بھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالے نے ایک اعلیٰ درجہ