خطبات محمود (جلد 2) — Page 246
۲۴۶ ابو ہے اسمعیل علیہما السلام کو حکم دیتا ہے کہ میرے اس گھر کو صاف کرو کیونکہ یہاں میرا وہ نبی آنیوالا جس کے نور سے ساری دنیا منور ہو گی ۔ طَهَرا بَيْتِيَ لِلطَّائِنِينَ وَالْعَالِفِينَ الرَّع السجود دیکھ میرے اس گھر کو ان لوگوں کے لئے تیار کرو جو طواف کرنے کے لئے یہاں آئیں گے جو اعتکاف بیٹھنے کے لئے یہاں آئیں گے اور جو یہاں آکر رکوع اور سجدہ کریں گے ۔ مگر حضرت سمعیل علیہ السلام کے زمانہ میں اور اس کے بعد کتنے لوگ تھے جو اس نیت کے ساتھ وہاں آیا کرتے تھے۔ طواف تو لوگ کرتے ہی تھے مگر کتنے لوگ تھے جو وہاں اعتکاف بیٹھتے تھے اور اپنی عمریں خدا تقاضے کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ سے پہلے سینکڑوں سال کی تاریخ محفوظ ہے مگر وہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس وقت وہاں بہت پرستی نی بت پرستی تھی لیے نہ خدا کے لئے کوئی اعتکاف بیٹھنے والا تھا۔ نہ خدا کے لئے وہاں رکوع ہوتا تھا اور نہ خدا کے لئے وہاں سجدہ ہوتا تھا۔ بلکہ جو لوگ خدا تعالے کے نام کو بلند کرتے انہیں مارا اور پیٹا جاتا تھا نھیں یہ جو باتیں بیان کی گئی ہیں کہ میرے اس گھر کو تیار کرو تا کہ طواف کرنے والے اعتکاف بیٹھنے والے اور رکوع و سجود کرنے والے یہاں آئیں۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہی ہونے والی تھیں اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو اسی تیاری کے لئے مقرر کیا گیا تھا ۔ باقی رہا یہ سوال کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کیا کام کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے ظاہری رنگ میں کعبہ کی تعمیر کی ۔ اس طرح انہی ۔ انہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زمانہ مکلوایا۔ بعد میں جو خرابیاں نظر آتی ہیں۔ ان کی وجہ سے حضرت اسمعیل علیہ السلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا اصل غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے جن لوگوں کو اپنے بعد چھوڑا ان میں سے بہت سے سے مشرک اور بت پرست ہو۔ ہو گئے مگر کیا دنیا کا کوئی شخص اس اس امر سے : کر سکتا ہے کہ دین کو پھیلانے کی قابدیت انہی کے اندر تھی ۔ اہل مکہ نے بے شک اسلام کی مخالفت کی۔ قریش نے بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کی اور شدید مخالفت کی بلکہ ابو جھیل کو پیش کرکے کوئی مشخص کر سکتا ہے کہ جس قوم میں ابو جبل جیسے لوگ را L ! انکار پیدا ہونے والے تھے کیا اس کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ طَهَرا بَيْتِي لِدها وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُود - کیونکہ جب خدا نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام سے کہا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ۔ اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے تیار کرو تو اس کے معنے ہی تھے کہ ان کی آئندہ نسلیں یہ کام کریں گی ہیں نہ وہ تو ہمیشہ کے لئے زندہ نہیں رہ سکتے تھے ۔ پس ایک کہنے والا کہ سکتا ہے کہ کیا جس قوم میں ابو جہل جیسے لوگ پیدا ہونے تھے ، اس