خطبات محمود (جلد 2) — Page 228
۲۳۸ ت بکرا ذبح نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اپنی بیوی اور اپنے بچے کو قربان کر دیا تھا۔ اگر تم واقعہ میں حضرت ابراہیم کی یاد تازہ کرتے زہ کرتے ہوئے عید الاضحیہ عیہ میں حصہ لینا چاہتے ہو اگر تم یہ آرزو رکھتے ہو کہ آئندہ جب دنیا میں عید الاضحیہ منائی جائیں تو گو دنیا اسے حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد میں منائے مگر خدا تعالیٰ کے کے رجسٹر میں تمہارا نام بھی ہو اور آسمان پر تمہاری قربانیوں کی یاد اری قربانیوں کی یادگار میں بھی عبد الاصحبہ منائی جائے تو تمھیں ابراہیمی صفات اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عید صرف حضرت ابراہیم کی یاد میں منائی جاتی ہے اور ان کے بعد کوئی ایسا ئی ایسا شخص نہیں ہوا جس نے خدا تعالٰی کی راہ میں اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو قربان کر دیا ہو کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جو قربانیاں کیں وہ کوئی معمولی ہیں اور کیا ان کے بعد ہزاروں ایسے لوگ نہیں ہوئے جنہوں نے اپنے بیوی بچے خدا تعالے کی راہ میں قربان کر دیئے ۔ یقینا ایسے لوگ ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن چونکہ اتنی لمبی لیسٹر LIST) لوگ یاد نہیں رکھ سکتے۔ اس لئے دنیا کے لوگ تو یہ عید صرف حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد میں مناتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی لسٹ میں ان تمام لوگوں کے نام درج ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی راہ میں قربانیاں کیں جب عید الا ضحیہ آتی ہے اور لوگ اسے حضرت ابراہیم کی یاد میں مناتے ہیں اس وقت خدا ان سار شہداء کی یاد میں یہ عید مناتا ہے جنہوں نے اس کے لئے قربانیاں کیں۔ اسی طرح خدا تعالے کے فرشتے ان سارے شہداء کے نام پر یہ عید مناتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا نقالے کے رستہ میں قربان کر دیا۔ ہمارے سامنے آج وہ بکرے ہوتے ہیں جن کے گلوں پر ہم چھریاں پھیرتے ہیں اور میرے جیسے عدیم الفرصت انسان کے سامنے تو بکر ابھی نہیں ہوتا ۔ کوئی دوسرا ہی اسے ذبح کرتا ہے مگر خدا تعالے کے دربار میں یہ بکرے نہیں ہوتے۔ بلکہ آج جب کہ دنیا میں کروں پر چھریاں پھر رہی ہوں گی خدا بقالے کے سامنے حضرت ابراہیم کو پیش کیا جا رہا ہوگا اور وہ اسے کہہ رہا ہوگا کہ اسے ا ، ابراہیم دیکھ تو نے اپنے بچے اسمعیل کو میری راہ میں قربان کرنے کے لئے پیش کر دیا تھا دیکھ تو نے اپنی بیوی ہاجرہ کو ایک بے آب گیاہ جنگل میں میرے حکم کے ماتحت چھوڑ دیا تھا۔ بے شک تو نے قربانی کی اور بہت بڑی قربانی کی۔ مگر اسے ابراہیم ! وزا دنیا کی طرف نظر اٹھا اور دیکھ کہ آج تیری نسل کسی کثرت سے تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ یہاں تک کے ریت کے ذروں کو گنا جاسکتا ہے مگر تیری نسل کے افراد کا شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ اب تبا کہ اسمعیل کی قربانی صنائع گئی یادہ دنیا میں عظیم الشان رنگ لائی اور ابراہیم شرم سے اپنی آنکھیں نیچی کر لیتا ہوگا۔ اور کہنا ہو گا ۔ اسے خدا۔ اور پھر آج حضرت ابراہیم نہیں میری قربانی تیرے انعاموں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور پھر آج تو