خطبات محمود (جلد 2) — Page 225
۲۲۵ ہاتھ پر لوگوں کی سبعیت کرادی تھی اس لئے یزید کے بعد وہی بادشاہ بنا اور اس نے دوبارہ لوگوں سے بیعت کی۔ لی بعیت لینے کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن یا اس سے کم و بیش اپنے گھر سے باہر نہیں نکلا ۔ پھر ایک دن وہ باہر آیا ۔ منبر پر کھڑا ہوا اور لوگوں سے کہنے لگا۔ اے لوگو! میں نے تم سے اپنے ہاتھوں پر جمعیت لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت لینے کا اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا ۔ تا تھا تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو۔ اپنے دل میں اُس وقت بھی یہی سوچ رہا تھا کہ سے کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اس کے سپرد کر دوں اور خود بری الذمہ ہو جاؤں ۔ چنانچہ اس کے بعد میں اپنے گھر چلا گیا ۔ اور ا چلاگ اور اتنے دن جو میں باہر نہیں نکلا تو اسی لئے کہ ہیں : لئے کہ میں یہ سوچتا رہا کہ تمہاری پر سوچیار اور چاہا دیت لینے کا کون شخص اہل ہے میں نے اپنے آپ کو ابو بکر کے مقام پر بھی کھڑا کیا ! کہ اگر تم میں کوئی عمر ہو تو میں اس کے ہاتھ میں تمہارے ہاتھ دیدوں ۔ مگر مجھے تم میں کوئی عمرانہ نظر نہیں آیا۔ پھر میں نے اپنے آپ کو عمر کے مقام پر کھڑا کیا اور چاہا کہ اگر مجھے ایک آدمی نہیں ملا تو کم از کم ایسے کچھ آدمی ہی مل جائیں جن کے سپرد عمر نے انتخاب خلافت کا کام کیا تھا مگر تو رمانت مجھے آج تم میں ایسے چھ آدمی بھی نظر نہیں آتے ۔ اس لئے اے لوگو ! یہ اچھی طرح سُن لو کہ میں اس منصب کے قابل نہیں ہوں اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا باپ اور میرا داد ابھی اس منصب کے قابل نہیں تھے۔ میرا باپ حسین سے درجہ میں بہت کم تھا ۔ اور اس کا باپ حسین کیے باپ سے کم درجہ رکھتا تھا۔ علی اپنے وقت میں خلافت کا حقدار تھا اور اس کے بعد حسین خصلات کا زیادہ حقدار تھا یہ نسبت میرے دادا اور میرے باپ کے۔ اس لئے میں اس امارت سے سبکدوش ہوتا ہوں اب یہ امر تمہاری مرضی پر منحصر ہے جس کی چاہو مہویت کر لو۔ اس کی ہاں اس وقت پردہ کے پیچھے میھٹی اس کا خطبہ سن رہی تھی۔ اس نے یہ سنتے ہی کہا۔ کمبخت! تو نے اپنے خاندان کی ناک کاٹ دی اور اس کی تمام عزت خاک میں ملا دی۔ وہ کہنے لگا مجھے جو کچھ کہیں یہ آپ کی مرضی ہے۔ مگر حق بات وہی ہے جو میں نے کہی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور چند دن گزرنے کے بعد فوت ہو گیا ہے یہ اثر تھا ان مظالم کا جو اس نے اپنے خاندان کی طرف سے دیکھے اور یہ اثر تھا ان مصائب ان کا جو حضرت علیؓ اور حضرت حسین وغیرہ کو پہنچے ۔ اس نے ان مقابلوں کو بھی دیکھا جو اس کے دادا کے حضرت علی سے ہوئے اور اس نے ان دکھوں کا بھی مشاہدہ کیا جو اس کے باپ نے حضرت حسین کو پہنچائے۔ اس کا دل یہ مظالم دیکھ کر اندر ہی اندر کباب ہو گیا ۔ مگر چونکہ اس میں اتنی بہت ز تھی کہ وہ مقابلہ کے لئے کھڑا ہو سکتا اس لئے خاموش رہا مگر جب عنان حکومت اس کے ہاتھ