خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 217

۲۱۷ غیر احمدی ٹھیکیدار تھے ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق تو نہ تھا مگر چونکہ ہمارے ملک میں یہ طریق ہے کہ خواہ کسی سے کوئی تعلق نہ ہو مہمان نوازی کے طور پر کھانے کے متعلق پوچھ لیتے ہیں ۔ اس لئے وہ ٹھیکیدار ہمارے پیچھے پڑ گیا اور کہنے لگا۔ میں آج آپ کی دعوت کروں گا۔ مفتی فضل الرحمن صابت اور شیخ یعقوب علی صاحب کے ساتھ تھے میں نے انہیں کہا کہ ہمارے پاس کافی کھانا ۔ انی کھانا موجود ہے، اس کی دعوت قبول نہ کریں۔ کیونکہ جب ہمارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو نہیں کھانا کھلانا اس پر گراں گزرے گا اور مجھ پر ان کا کھانا کھانا گراں گزرے گا ۔ انہوں نے کہا نہیں یہ ہمارا واقف ہے اور جب یہ اس قدر اصرار کرتا ہے تو اس کی دعوت کو قبول کر لینا چاہئیے ۔ میں اپنے ملکی اخلاق کو دیکھتے ہوئے جانتا تھا کہ بس کے ساتھ تعلق نہ ہو اس پر کسی کی دعوت کرنا گراں نہیں گذرتا ہے مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو میں نے کہا اچھا منظور کر لو۔ اس کے بعد اس نے چاہا کہ وہ ہمارے لئے مرغی ذبح کرے چنانچہ اس سے مرغنی پکڑنے کے لئے ہاتھ جو مارا تو مرغی ذرا آگے نکل گئی۔ اُس نے آگے ہو کہ پھر دوبارہ اس پر ہاتھ مارا تو وہ پھر ذرا آگے ہو گئی اس پر وہ کہنے لگا کر کڑی تے پھڑی نہیں جاندی چلو وال ہی پکا لو " ہم نے اسے کہا ۔ آپ خواہ مخواہ کیوں تکلیف کرتے ہیں بہار پاس کھانا موجود ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ہم نے اپنا پکا ہوا کھانا ہی کھایا بلکہ اسے بھی ساتھ بٹھا لیا اور چونکہ کھانا بیچ رہا تھا۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ یہ کھانا بھی ان کو ہی دے دو۔ ہمارے لئے خدا تعالئے آگے اور ان در انتظام کر دے گا۔ اب وہ شخص ایک طرف اپنی مہمان نوازی جتا نا چاہتا تھا۔ ر اور دوسری طرف چونکہ اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا اس لئے ایک مرغی کا ذبح کرنا بھی اس پر گراں گزر رہا تھا ۔ غرض بغیر تعلق کے اپنی مرغی کی قربانی بھی بڑی نظر آتی ہے لیکن دوسرے کا اکلوتا بیٹا بھی اگر مر جائے تو اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ بے شک وہ لوگ جنہیں حضرت ابراہیم سے اُنس نہیں جنھیں یہ احساس نہیں کہ حضرت ابراہیم وہ شخص تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دادا لگتا تھا۔ اور وہ نبی ہوتا یا نہ ہوتا ، پھر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کی وجہ سے ہم اس سے محبت کرنے پر مجبور ہو جاتے ، وہ اس قربانی کی قدر وقیمت کو نہ پہچانیں ۔ مگر جن لوگوں کے دلوں میں سول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عشق ہے جو محبت کے جذبات اپنے اندر رکھتے ہیں جو اپنے محبوب کی ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی اپنی قیمتی متاع تصور کرتے ہیں، ان کی حالت اس واقعہ کو شنکر اور ہی ہو جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا عبد المطلب چونکہ آپ کے زمانہ سے پہلے گزرچکے ہ یہاں زمانہ سے مراد زمانہ نبوت ہے۔ (مرتب)