خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 212

! ۲۱۴ کہ کوئی کے بیٹے کی وفات کی خبر سنکر نہیں ہوتا ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ دوسرے کے غم کی نقل کر کے اس سے ہمدردی کرتے ہیں۔ ان کے دل میں کوئی رنج نہیں ہوتا۔ اگر وہ سامنے آجائیگا تو رونے والی شکل بنا لیں گے اور ہم گے اور ہمدردی کے چند الفاظ مد الفاظ اپنے منہ سے نکال دیں گے لیکن ان کے دل غم کے جذبات سے بالکل خالی ہوں گے ۔ اس کے مقابلہ میں اگر ان کی اپنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ضائع ہو جائے تو وہ اس کے صدمہ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کوئی چوڑھی تھی جو بادشاہ کے گھر میں صفائی کیا کرتی تھی ۔ ایک دفعہ جب وہ شاہی محل سے باہر نکلی تو ڈیوڑھی کے اندر کھڑے ہو کہ اس کی دیوار سے سر لگا کر اس نے رونا شروع کر دیا اور اس درد اور کرب کے ساتھ روٹی کہ باہر جو دربان کھڑے تھے انہوں نے سمجھا کہ شاہی خاندان میں کوئی موت واقع ہو گئی ہے۔ چنانچہ اس خیالی پر انہوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے یہ دینا شروع کر دیا ۔ اور دیوار سے لگ کر جھوٹی ہچکیاں لینی شروع کر دیں تا ایسا نہ ہو کہ ان کے متعلق یہ سمجھا جائے ۔ وہ نمک حرام ہیں۔ ان کو روتے دیکھکر اوروں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ پھر اور وں کیا تک کہ درباریوں تک یہ بات پہنچ گئی ۔ چونکہ درباریوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ جب شاہی خاندان میں کی موت واقع ہو تو سیاہ لباس پہن کر آؤ، اس لئے وہ دوڑ دوڑ کر اپنے گھر گئے اور ہر ایک کالا لباس پہنکر دربار میں سر نیچے جھکا کر بیٹھ گیا اور آنکھوں کے آگے رواں رکھ لیا تا ی علوم ہو کہ وہ رو رہا ہے ۔ مگر جو سب۔ جو سب سے بڑا وزیر تھا وہ کچھ سمجھدار تھا دار تھا وہ بغیر سیاہ لباس پہنے دربار میں آبیٹھا اور اس نے پاس والے سے پوچھا کہ کیا حادثہ ہوا ہے۔ اس نے کہا مجھے تو یہ نہیں ساتھ والے کو پتہ ہو گا۔ میں نے اسے ماتمی لباسی میں بیٹھا دیکھا تھا۔ میں بھی پہن کر آگیا کہ شاید شاهی خاندان میں کوئی حادثہ ہوا ہے۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے آگے سے اپنے پاس والے کا حوالہ دیا اور اس نے تیسرے کا اور اس نے پو تھے گا۔ آخر دربانوں تک بات پہنچی اور انہوں نے چوڑھی کا حوالہ دیا ۔ جب اسے بلا کر بلا کر پوچھا گیا۔ تو اس نے بتایا کہ اللہ رکھے تا قلعہ میں تو ہر طرح خیریت ہے ۔ بات یہ ہے کہ میں نے ایک سٹور کا بچہ پال رکھا تھا۔ آج صبح وہ مر گیا صفائی کا وقت قریب تھا اس لیئے میں جلدی سے محلات میں آگئی اور جذبات کو دبائے رکھا۔ لیکن جب محل سے باہر آئی تو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور ڈیوڑھی میں مجھے رونا آگیا۔ اب وہ جذبات جو اس چوڑھی کے دل میں دبے ہوئے تھے وہ چونکہ انہیں نکال نہیں سکی تھی اس لئے جب تک کے صفائی میں مشغول رہی جذبات رہے رہے ۔ مگر جب اس کا کام ختم ہو گیا اور اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تو اس نے بے تاب ہو کر رونا شروع کر دیا۔ اور باقیوں نے اس کی بے تابی کو دیکھ کر یہ قیاس کیا کہ اس قدر غم کسی بڑے حادثہ پر ہی ہو سکتا ہے اور