خطبات محمود (جلد 2) — Page 206
۲۰۶ اس سے فائدہ نہ اٹھایا اسے چھونے والا جسم دیا گیا مگر اس نے اس سے فائدہ نداک نہ اٹھایا۔ خدا کی محبت کی شیرینی اس کے سامنے پیش کی گئی مگر یہ بدبخت دنیا کا منظل کھاتا رہا مگر اس شیرینی سے اس نے مولنہ پھیر لیا ۔ مگر اس کا خدا اس سے پھر بھی مایوس نہیں۔ میں ہے۔ دیکھو وہ ۔ دیکھو وہ کس شان سے اپنے آخری کلام میں فرماتا ہے کہ انسانوں نے میرے نبیوں کا انکار کیا لیکن ان کے انکار نے مجھے نبی بھیجنے سے باز نہیں رکھا۔ میں اب بھی نبی بھیجتا ہوں اور نبی بھیجتا رہوں گا۔ وہ ماننے سے انکار کرتے جائیں ہمیں بلانے سے نہیں ہٹوں گا اور آخران کو کھینچ ہی لاؤں گا ۔ کیونکہ میں نے ان کو اپنی عبودیت کے لئے پیدا کیا ہے اور میری جیت کا گھر اپنے معین کے بغیر ویران پڑا ہے۔ براہ راست آکر اس گھر کو آباد کریں یا دوزخ کے ہسپتال ہیں۔ خواه وه سے گزر کر آئیں مگر بہر حال میں انہیں میرے ہی پاس آنا ہو گا۔ اور بکیں انہیں اپنے پاس لا کر رکھے بغیر نہیں رہوں گا۔ یہ ہے ہمارا محبت کرنے والا خدا - ابراہیم نے بڑی نرم دلی دکھائی مگر ابراہیم کے نرم دل کو پیدا کرنے والا بھی ہمارا خدا ہی تھا۔ پس تمام رحم اسی سے ہے اور تمام خوبیاں اسی کی طرف سے ہیں۔ کوئی حسن نہیں ہے جو اس کی طرف سے نہ آتا ہو۔ سب نیکی اسی سے ہے اور سب نیکی اسی کی طرف جاتی ہے ۔ وہ ایک ہے اور باقی سب ایک افسانہ ہے اور کوئی افسانہ بغیر ایک مرکزی نقطہ کے قائ قائم نہیں رہتا ۔ پس جب تک ہمارا را اضا نہ اس نقطۂ مرکز ی سے وابستہ ہے وہ ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ ہے جب وہ اس سے جدا ہو جائے وہ ایک خیالی افسانہ ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں جس کے لئے کوئی دوام نہیں ۔ پس کوشش کرو کہ تمہاری زندگیاں ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ نہیں جس طرح ابراہیم کی زندگی ایک حقیقی اور تاریخی افسانہ بن گئی۔ اور اپنے آپ کو خدا سے دور کر کے اور چھوٹی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے اپنی زندگیوں کو صرف کر کے ایک بے معنی اور لغو وجود مت بنائو کیونکے دائمی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور وہ چیز جو آئی اور ختم ہوگئی محض ایک حیوانی زندگی کا مظاہرہ ہے جس طرح کتنے کے مرنے سے دنیا میں کوئی تغیر نہیں ہوتا ، اسی طرح اس انسان کے مرنے سے بھی کوئی تغیر نہیں ہوتا جس کی زندگی ابراہیمی کی طرح خداکے نور کے گرد پروانہ وار کر نہیں لگا رہی ہوتی ۔ اللہ تعالے ہیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس عید سے سبق حاصل کریں اور ہمارے دل اس کے آستانہ محبت کے گرد لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيَاكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، کہتے ہوئے اس وقت تک گھومتے رہیں جب تک کہ شمع پر دانے کو جلا کر اپنے نور میں غائب نہ کر دے اور ہمارا وجود لا شريك لک کی بین دلیل نہ ہو جائے ۔ اس کے جد میں دعا کرتا ہوں ۔ دوست اس میں میں شامل ہو جا میں ہو جائیں لیکن یہ یاد رہے کہ چونکہ