خطبات محمود (جلد 2) — Page 202
۲۰۲ کہتا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے جذبات نہایت ہی اُبھرے ہوئے اور نازک تھے کیا اور یہی وہ تھے سبب ہیں جن کے ماتحت انسان ان فطرتی تقاضوں کو بھول جاتا ہے جن کو پورا کرنا ہر انسان کی فطرت کا جزو ہے۔ پس جب ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تو اس کے دلی جذبات کا اندازہ بہترین محبت کرنے والے ہاں باپ کے جذبات سے کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ نہیں کہا جاسکتا که ابراهیم ان محبت کرنے والے اور ان دکھ اٹھانے والے ماں باپ سے جدا قسم کا انسان تھا جو اپنے بچے کی ایک ذرا سی تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتے بلکہ لوط کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ اپنے تو الگ رہنے وہ بیگانوں کا دُکھ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اب تم لوط کے واقعہ کو اپنی دو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہوئے اس حساس دل کا خیال کر وجود شمن کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ اور اس کے آرام کے لئے بھی خدا سے جھگڑتا تھا کہ جب کہ اس نے شدید ترین دشمنان مذہب اور خود اپنے خاندان کے اشد ترین مخالفوں کی تباہی کی خبر سنگر ساری رات خدا سے جھگڑے میں گذار دی اور قدم بقدم اس کے جسم سے اس اس طرح اپیل کی کہ خدا کے رحم کو مانے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔ اور وہ تب تک خاموش نہ ہوا جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو گیا کہ موسم کی اب کوئی بھی صورت باقی نہیں رہی۔ اس ابراہیم کو جب اس کے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا تو جس ابراہیم نے د نے دشمنوں کی ہلاکت کے لئے ساری رات خدا سے بحث کی تھی اپنے بیٹے کے متعلق اس نے ایک لفظ بھی تو نہیں کہا اور فورا لبیک کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی پیش کرنے پر آمادہ ہو گیا ۔ حج کے دن حاجي لبيك لبيك لا شريك لك لبيك کے نعرے لگاتے ہوئے خانہ کعبہ اور وہاں سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں وہ اسی نظارہ کی تمثیل ہوتی ہے گویا وہ ابراہیم کی نقل کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور اپنے مونہ سے اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ جس وقت خدا نے اس سے کہا اے ابراہیم اپنے بیٹے کی قربانی کرے تو اس نے قربانی کے وقت کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس خیال ہے کہ اس حکم کے سلنے اور قربانی کے پیش کرنے میں جو دیر لگے گی۔ وہ میرے رب کو گراں نہ گذرے۔ اس نے اسی وقت سے پکارنا شروع كيا لبيك لبيك لا شريك لك لبيك - اے میرے رب میں حاضر ہوں اے رب میں حاضر ہوں تیرا اور کوئی شریک نہیں ہے۔ اے خدا ! میں پھر کہتا ہوں کہ میں حاضر ہوں اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم خدا تعالیٰ کے قربانی کے مطالبہ کو پورا کرنے میں اسی والمانہ رنگ سے کھڑا ہوتا ہے جیسا ایک سخی انسان جو درد مند دل رکھتا ہے کسی پیاسے کی آواز سنگر جو شدت پیاس سے کراہ رہا ہو دور سے چلاتا ہے کہ میں پانی لارہا ہوں پانی لا رہا ہوں لاتا اسے انتظار کی مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ یہ کیسا درد ناک نظارہ اور عشق کا مظاہرہ ہے۔ پیش تو ایک لڑکے