خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 177

166 اس میں یہ سبق ہے کہ خدا کی راہ میں قربانی ہی حقیقی عزت ہوا کرتی ہے۔ اور حقیقی عورت میں قربانی ہوتی ہے ۔ خدا تعالے کے لئے قربانی کر نیوالا کبھی ناکام نہیں رہ سکتا اور جیسے خدا تعالے عزت دے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قربان ہو جاؤ۔ جاؤ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض مسلمان جو منافق اور کمزور مسلمان تھے ۔ احسان جتاتے تھے کہ ہم نے اسلام قبول کیا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا ان پر احسان ہے۔ کہ انہیں اسلام لانے کی توفیق دی ہے اور اس احسان کے بدلہ میں اللہ تعالے کیا چاہتا ہے یا ہیں کہ اور جا کر مر جاؤ ، قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ جاؤ جاؤ اور اور ا اللہ تعالے کے رستہ میں جانیں جانتا دیدو۔ یہ احسان کا بدلہ ہے۔ اسلام اسلام نے انعام کا نتیجہ قربانی رکھا ہے۔ جب تک قربانی نہیں انجام نہیں مل سکتا۔ اور جب انعام ملے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ قربانی کرو۔ پس خدا تعالے سے کوئی شخص انعام نہیں پاسکتا جب تک کہ وہ قربانی نہ کرے ۔ اور ہر انعام کے بعد اسلام امید کرتا ہے کہ پھر قربانی کی جائے۔ یہ ایک چکر ہے جو اسی طرح چلتا جاتا ہے ۔ سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یعنی سب کام رحمانیت اور رحیمیت سے شروع ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ رحمانیت اور سیمیت کا دور لاتا ہے ۔ اسی طرح ہر انعام قربانی کا تقاضا کرتا ہے ۔ اور ہر قربانی کا نتیجہ امام ہے مشہور ہے کہ ایک بڑے بزرگ شبلی گزرے ہیں ۔ وہ اپنے زمانہ کے اسلامی بادشاہ کی طرف سے کسی علاقہ کے گورنہ تھے۔ اور ایسے ظالم اور جابر گورنر تھے کہ ان کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ انہیں بھی کبھی ہدایت ہوگی وہ ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں حاضر تھے کہ کوئی جرنیل بہت بڑی فتح کے بعد حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اسے خلعت دیا ۔ جو اُسے پہنایا گیا۔ اور سب نے اسے مبارکباد دی کہ بڑی عزت افزائی ہوئی ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے اس جرنیل کو نزلہ کی شکایت تھی ۔ درباریوں میں رواج ہوتا ہے کہ وہ رومال ساتھ رکھتے ہیں مگر وہ جلدی میں یا خوشی ہیں گھر سے رومال لانا بھول گیا تھا۔ چھینک آئی تو ناک سے رطوبت نکلی وہ بہت گھبرایا کہ اب کیا کروں۔ اس نے ذرا نظر بچا کر اسی خلدت کے دامن سے پونچھ لیا ۔ اتفاق سے بادشاہ کی نظر اس پر پڑ گئی۔ اس نے حکم دیا کہ خلعت فورا اتار لی جائے اور محمدے سے معزول کر دیا جائے کہ اس نے ہماری بنک کی ہے جو خلوت اسے عورت کے لئے دیا گیا تھا اس سے ناک پونچھ لی ہے۔ شبلی بھی اس وقت کوئی رپورٹ دینے کے لئے بادشاہ کے دربار میں حاضر تھے حکم ششکر ان کی چیخیں نکل گئیں اور گورزی کا پروانہ بادشاہ کے سامنے رکھ کر آپ نے کہا کہ میرا استعفیٰ