خطبات محمود (جلد 2) — Page 169
: 149 ایسے انسان سے تو معمولی تکلیف بھی برداشت نہیں ہو سکتی ۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی قربانی اس سنگدل کے مقابلہ ابلہ میں جسے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا بہت زیادہ زیادہ ہو قیمت رکھتی ہے مولوی سید محمد سر در شاه و صاحب صامد ایک نواب کا قصہ سنایا مایا کرتے ہیں جن جن کی کی اولاد اولا اب احمدی ہو چکی ہے ۔ وہ پہلے نواب تھے مگر کشمیر کے راجہ نے انہیں شکست دیدی تھی وہ بہت خوبصورت انسان تھے ایک دفعہ ان کے ہاتھ کی ہڈی کسی طرح ٹوٹ گئی جو بعد میں جڑ گئی تھی ۔ ایک دن وہ راجہ کے دربار میں بیٹھے تھے ۔ راجہ نے کہا کہ نواب صاحب جوڑنے والا اچھا ماہر نہ ہو گا کیونکہ کچھ نقص رہ گیا ہے۔ اگر آپ اس شخص سے جڑواتے جو ہم نے اس غرض کے لئے ملازم رکھا ہوا ہے تو بہت اچھا جو ڑ لگتا ۔ اور آپ کی خوبصورتی میں اس قدر نہ قدر نقص بھی نہ آتا ۔ اس پر انہوں نے بازو کو پاؤں کے نیچے دبایا اور کڑاک کر کے اسے توڑ دیا اور کہا لیجئے اب اپنے آدمی سے جڑوا دیجئے کیا دمی سے جڑوا دیجئے ملیں تو ایک ایسے انسان بھی ہوتے ہیں۔ مگر دوسری طرف بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی حبس بہت تیز ہوتی ہے اور وہ معمولی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ سلام کا ایک واقعہ مجھے یاد آگیا ہے۔ ہم چھوٹے تھے ایک دن مرغی ذبح کرنی تھی۔ اور ڈیوڑھی پر اس وقت کوئی آدمی نہ تھا کوئی مہمان آئے ہوئے تھے اور جلدی تھی ۔ آپ نے فرمایا۔ لاؤ میں ذبح کرتا ہوں ۔ مرضی کو لٹا کر آپ نے آنکھیں بند کر لیں اور چھری پھیر دی۔ مگر جب اس خیال سے کہ اب ذبح ہو چکی ہوگی اسے چھوڑا تو مر عنی اُٹھ کر دی۔ سے ہو تو می انار بھاگ گئی اور آپ کی انگلی سے خون بہہ رہا تھا ۔ تو ایک جیسی یہ ہے کہ مرغی کو ذبح کرتے وقت بھی ایک رحب دل پر پڑ جاتا ہے کہ ہم اللہ تعالے کی پیدا کردہ ایک جان خواہ جائزہ ہی سبھی لے رہے ہیں۔ ایسے احساس والا اگر کوئی جسمانی قربانی کرتا ہے تو اس کی قیمت اس شخص کی قربانی سے جو خود پاؤں کے نیچے دبا کر اپنی ہڈی توڑ سکتا ہے بہت زیادہ قیمت ہوگی اور دونوں میں یقینا بہت بڑا فرق ہوگا۔ تو قربانی کی قعیت احساس کے مطابق ہوتی ہے ۔ اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ بعض کی قربانی کم ہے اور بعض کی زیادہ ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ آپ حضرت ابو بکر کا لحاظ زیادہ کرتے ہیں۔ حالانکہ قربانی کے لحاظ سے ہم بھی آپ سے کم نہیں ہیں۔ گو یہ بات بھی غلط تھی مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ ظاہری نمازوں پر نہ جاؤ ۔ ابو بکر کی قیمت اس کی ظاہری نمازوں اور رکعتوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کے دل کی حالت پر ہے۔ ولی احساس سے ایک شخص ایک دفعہ سبحان اللہ کہتا ہے مگر دوسرا ۲۵ مرتبہ کہتا ہے مگر محض زبان سے اس کے دل میں اس کا کوئی احساس بھی نہیں ہوتا تو گو بظاہر اس نے زیادہ عبادت کی مگر اللہ تعالیٰ