خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 167

1५८ کر سکتا ہے کہ جب فرض موجود ہیں تو پھر سنتوں اور نوافل کی کیا ضرورت تھی ۔ اس میں ہی حکمت ہے کہ جب فرائض کی عادت ہو جائے تو مزید ترقی کے لئے رستہ کھلا رہے اللہ تعالے نے نماز کا کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔ مثلاً یہ نہیں کہا کہ ظہر کی نمازہ چار بجگرہ منٹ پر ادا کی جائے اور اس اس سے بھی اللہ تعالے کا منشاء یہی ہے کہ اگر کوئی خلوص دل سے چاہے تو اس میں زیادتی کر سکے پھر نماز میں توجہ کی بھی کوئی حد نہیں رکھی۔ وگرنہ نچلے درجہ کے لوگ محروم رہ جاتے ایک شخص معمولی سی توجہ سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتا ہے مگر دوسرا اتنا نہیں اُٹھا سکتا جب تک پوری توجہ سے کام نہ لے یہی حال صدقہ و خیرات کا ہے ۔ ایک طرف زکوۃ رکھدی جس کی حد بندی کردی مگر صدقہ خیرات کی کوئی حد نہیں رکھی یعنی زکوۃ کے علاوہ نفلی صدقہ رکھاتا انسان جب نہ کوہ کا عادی ہو جائے تو اس میں ترقی کر سکے۔ روزوں کا بھی یہی حال ہے رمضان کے روزے فرض کئے مگر ساتھ نفلی روزے بھی رکھے گویا ہر بات میں ترقی کی گنجائش رکھی تاجوں جوں ایک نیکی کی عادت ہوتی جائے اس میں اضافہ اور ترقی کی جاسکے۔ غرض شریعت نے احساس اور عادت پر بنیاد رکھی، چیز پر نہیں ۔ یہ نہیں کہ دس روپے دینے والا نو روپے دینے والے سے اچھا ہے۔ بلکہ احساس کے لحاظ سے ممکن ہے کہ ایک رویہ پینے والا نو روپے دینے والے سے اچھا ہو ۔ ایک تنگ دل آٹھ آنہ دیتا ہے مگر اسے بھی ایک بڑی چیز خیال کرتا ہے لیکن دوسرا جو مشرف ہے وہ دس روپے دے دیتا ہے لیکن اس کے دل میں اس کا قطعاً کوئی احساس تک نہیں ہوتا۔ اس سے اس کنجوس کی ایک روپیہ کی قربانی جیسے کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی ہے زیادہ قیمتی ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک واقعہ سنایا ہے جو میرے ایک عزیز سنایا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے طالب علم کے ساتھ مل کر رہا کرتے تھے جو احمدی ہے۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ وہ بہت افسردہ خاطر میٹھا ہے ۔ دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ امتحان سر پر ہے مگرہ آج میں نے ٹھیک طور پر پڑھا نہیں اور بہت سا وقت ضائع کر دیا ہے اس لئے میں نے اپنے آپ پر دو آنے جرمانہ کیا ہے انہوں نے پوچھا کہ کیا دو آنے کسی فقیر کو دیدیئے۔ کہنے لگے کہ نہیں اگر کسی فقیر کو دے سکتا۔ تو خوشی نہ ہوتی۔ انہوں نے پو چھا کہ پھر کسی طرح جبریا نہ کیا ۔ اس نے جواب دیا کہ دو آنہ کی ریوڑیاں لے کر کھائی ہیں ۔ اب بعض طبائع روپیہ کی اتنی قدر کرتی ہیں کہ اپنی جان کے لئے بھی پیسہ خرچ کرنا پسند نہیں کرتیں اور سوائے اللہ ضرورت کے کہیں خرچ نہیں کرتیں ۔ ایسا شخص اگر دو آنہ بھی دیتا ہے تو وہ بہت قابل قدر ہیں ۔ لیکن جس شخص کے دل میں روپیہ کی قدر ہی نہیں اس کا ثواب بھی کم ہو گا ۔ اس گڑ ۔ کے مطابق مومن کو ہمیشہ نیکی میں ترقی کرنی چاہیئے ۔ اور یاد رکھنا چاہیئے کہ جس نیکی کی عادت ہو جاتا