خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 163

۱۶۳ کا تمہیں موقع دیا ہے اس موقع کی قدر کرو اور اسے ضائع نہ ہونے دو ۔ میں اللہ تعالے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور نہ صرف ہمیں اپنے نفوس کی اصلاح وقعہ دے بلکہ ہمیں دوسروں کی اصلا دوسروں کی اصلاح کا جذبہ بھی عطا فرمائے۔ او عطا فرمائے۔ اور اس عظیم الشان موقع سے جو بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوا کرتا ہے ۔ فائدہ اٹھانے کی توفیق دے ۔ یہ ایسا مبارک وقت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ اس وقت ایمان لانے والے والے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل ہوگئے ۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کا فضل ہمارے شامل حال ہوا اور وہ ہماری ناچیز قربانیوں کو قبول فرما کر ہمیں اپنی ان نعمتوں کا وارث بنائے تو پہلے لوگوں کو حاصل ہو چکی ہیں ۔ والفضل ۱۶ را اپریل ۱۹۳۳ مشه تا (1) ه - مراد البو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ - پیدائش باب ۱۱ آیت ۲۷ تا ۳۱ ۔ الانعام トミロワー تفسیر در منشور ، جوش انسائیکلو پیڈیا هستند ہے ۔ جیوش انسائیکلو پیڈیا جلد اصله دیر لفظ AB RAMAN ه - صحیح بخاری کتاب المناقب باب حدیث دریده بن عمرو بن نفیل الانبیاء ۲۱ : ۶۹-۷۰ ہے ۔ قدسی العرفان في تفسير سوره النجم من القرآن صرة شه غالبا کو کتابت ہے ایک روایت کے مطابق حضرت لوط ابوالانبیاء ابراہیم علیہ سلام کے چازاد بھائی تھے تفریح ادا کیا فی احوال نماید - پیدائش باب ۱۱ آیت ۲۷ ت پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۳ جلدات) - حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے اور میں رہتے تھے جو عراق کے علاقہ میں تھا۔ وہاں سے مار آن کی طرف جو بالائی عراق میں واقع ہے تشریف لے گئے اور وہاں سے خدا تھانے کے حکم کے ماتحت کن فانی کی طرف ہجرت کی۔ تاریخ طبری ۲۸۵ کی رو سے آپ نے ارض شام کی طرف ہجرت کی تھی ۔ ८५: ه - التوبه ۹ : ۱۱۴ - ہود ۲۶:۱۱ - ابراهیم ۱۴ : ۳۸ - الحج ۲۲ : ۷۹