خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 161

141 تو ان کی والدہ نے انہیں اپنے کسی عزیز کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں کوئی پیشہ سکھا دے یا تجارت کے کسی کام میں ان کی مدد کرے ۔ ان کے پاس بیس پچیس اشرفیاں تھیں۔ ان کی والدہ نے کہا یہ تمہارے باپ کا ورثہ ہے میں انہیں گاڑی میں سی دیتی ہوں ۔ جب منزل مقصود پر پہنچنا تو نکال لینا ۔ جس قافلے کے ساتھ وہ جا رہے تھے اتف تھے اتفاقاً راستہ میں ! راستہ میں اس پہ ڈاکہ پیڑا پیڑا ۔ اور ڈاکر والوں نے سب کچھ لوٹ لیا کسی ڈاکو نے گزرتے ہوئے ان سے بھی پوچھا کہ کیا تمہارے پاس بھی کوئی چیز ہے انہوں نے میں تھیں جتنی اشرفیاں تھیں بتا دیں اس نے کہا چل ہو قون مجھ سے مخول کرتا ہے ۔ تیرے پاس اشرفیاں کہاں سے آئیں۔ انہوں نے کہا نہیں میں محمول نہیں کرتا میرے پاس واقعی اشرفیاں ہیں۔ اس کے سمجھا یہ پاگل ہے اور چھوڑ کر چلا گیا۔ پھر کوئی دوسرا ڈ ا کو گذرا اور اس نے پوچھا تو اسے بھی انہوں نے سچ بتا دیا۔ آخر وہ ڈاکو انہیں پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گئے اور کہا ۔ ہم میں سے پوچھتے ہیں تو یہ کہنا ہے کہ میرے پاس بیس پچیس اشرفیاں ہیں، ہمیں تو اعتبار نہیں آتا اب آپ کے پاس لائے ہیں جو حکم ہو اس طرح کیا جائے ۔ اس نے کہا اس کی گوڑی پھا ڑو ۔ جب انہوں نے گھڑی پھاڑی تو اس میں سے اشرفیاں نکل آئیں ۔ انہوں نے اس پر بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہا تیری گوڑی تو کسی نے دیکھینی نہیں تھی ، پھر تو نے یہ راز کیوں افشا کر دیا ؟ انہوں نے نہایت سادگی سے کہا پھر میں جھوٹ کسی طرح بولتا ۔ چوروں پر اس کا اتنا اللہ ہوا کہ وہ اسی وقت تائب ہو گئے اور سوا تیج والے لکھتے ہیں کہ وہی ڈا کو بعد میں بہت بڑا دلی بن گیا ہے με اسی طرح شبلی جو شہور صوفی گزرے ہیں ۔ اور تمام عالم اسلام ان کا ادب اور احترام کرتا ہے، وہ ایک علاقہ کے گورنر تھے مگر نہایت ہی ظالم و جابر جس طرح حجاج بن یوسف اپنے ظلم کی وجہ سے بدنام ہے ۔ اسی طرح وہ بھی اپنے ظلموں کی وجہ سے بدنام تھے بلکہ حجاج بن یوسف تو شاید ظالم تھا یا نہیں کیونکہ اس کے متعلق اختلاف ہے۔ شبلی خود کہتے ہیں کہ میں نہایت ظالم و جابر گورنر تھا اور کوئی فتنہ نہیں تھا جس سے مجھے احتراز ہو۔ ہر گناہ کا میں مرتکب ہوا اور ہر ظلم میں میں نے حصہ لیا۔ ان کی ہدایت کا جو اللہ تعالے نے ذریعہ بنایا وہ یہ تھا کہ ایک دفعہ وہ بادشاہ کے دربار میں بیٹھے تھے کہ ایک جرنیل پیش ہوا جس نے بہت بڑی جنگی خود تا سرانجام دی تھیں۔ بادشاہ نے اسے بر سر در بار خلقت و یا لیکن بدقسمتی سے وہ رومال لانا بھوں گیا تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسے نزلہ تھا چھینک جو آئی تو نزلہ بہنے لگا ۔ اب اگر نزل نہ پوچھتا تو یه بد نما معلوم ہوتا ۔ اور اگر پو نچھتا تو کوئی چیز نہ تھی ۔ آخر اس نے نظر بچا کر اسی خلعت سے نت ناک صاف کر لیا مگر بادشاہ کی نظر پڑ گئی۔ وہ اپنے عطا کردہ خلوت کی اس بے قدری کو بر دوست نہ کر سکا۔ اس نے نہایت ہی حصہ میں کہا کہ اس کا خلعت اتار لو اور اس کی تمام جائیداد ضبط کر لو