خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 8

A ۳ ا فرموده ۲۰ اکتوبر ۲۰ اکتو بر اشاده بمقام عیدگاه گاه - قادیان) رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَا دِيَا يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِة رَبَّنَا وَاتِنَا هَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّكَ لَا تخْلِفُ الْمِيعَادَهُ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ آتِي لَا يُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ منكُمْ مِّنْ ذِكْرِ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَوْذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَقُتِلُو الْاكَفِّرْنَ عَنْهُمْ سَيِّاتِهِمْ وَلَا دَخِلَنَّهُمْ يَنْتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْصُرُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ انسان کی پیدائش کی غرض اور اس کے پیدا کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے یہ کہ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ نہیں پیدا کیا میں نے جن وانس کو مگر اس لئے کہ وہ میری جناب میں عبودیت اختیار کریں ، بیس عبد بنا اور خدا تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کے حضور میں تدلل ، یہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔ دوسری چیزیں خدا تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتی ہیں ۔ بلکہ بہت انسان تو خدا کے حکم کو کو توڑتے بھی ہیں مگر یہ اشیاء حکم کو ہرگز نہیں توڑیں ۔ پھر اس بات کے فرمانے کے کیا معنے ہوئے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - جسے عبادت کے لئے پیدا کیا وہ تو نا فرمانی کرتا ہے اور جس کی پیدائش کی یہ غرض بیان نہیں فرمائی وہ نافرمانی و خلاف ورزی نہیں کرتی۔ یہ کیا بات ہے ۔ اس کے لئے یاد رکھنا چاہیے کہ عبادت کے معنے ہیں تدل اختیار کرنا خشوع تام ۔ اپنی تمام محبت ، اپنا تمام پیار، تمام تعلق خدا ہی کے لئے کر دینا۔ سب چیزوں کو چھوڑ کر سب تعلقات کو قطع کرکے تمام برائی اور تکبر کے خیالات کو علیحدہ کر کے خدا کے حضور جھک جانا ہیں اور محبت و پیار کا اعلیٰ سے اعلی درجہ حاصل کرنا ۔ یہ بات ہم دیکھتے ہیں اور کسی چیز میں نہیں پائی جان جاسکتی۔ کیونکہ یہ تو اسی بستی میں ہو سکتی ہے جو کچھ قدرت رکھتی ہو۔ جس کے اندر یہ جس ہی نہیں پیادہ ہی نہیں۔ یہ طاقت ہی نہیں کہ دو چیزوں میں سے ایک کو چھوڑ کر دوسری کو اختیار کرے اور