خطبات محمود (جلد 2) — Page 135
۱۳۵ نہیں ہو سکتا بلکہ الٹا اس پر خرچ ہی آئے گا ۔ مکہ نہ مکه نه صرف متمدن دنیا سے الگ تھلگ مقام تھا۔ بلکہ غیر ذی زرع بھی تھا اور اسی مقام کو خدا تعالیٰ نے اسماعیلی پودے کے لئے اس لئے منتخب کیا۔ تا دوسرے لالچ کی نظر سے اسے نہ دیکھیں ۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ نیا پودا ہمیشہ علیحدہ لگایا جاتا ہے۔ نادان اسے شقاق اور تفرقہ قرار دیا ہے، حالانکہ یہ قانون قدرت کے عین مطابق ہے۔ اگر نئے پودے پرانے درختوں کے نیچے لگانے شروع کر دیئے جائیں تو دنیا بہت جلد باغوں سے محروم ہو جائے کیونکہ میرا نا درخت تو اپنی عمر کو پہنچکر ضائع ہو جائے گا اور نیا پودا اس کی وجہ سے غذا حاصل نہ کر سکے گا اور اس وجہ سے ہ بھی ضائع ہو جائے گا دنیا میں ہر ایک جو غذا کھاتا ہے ترقی نہیں کرتا ۔ بوڑھے آدمی کو خواہ کتنی انعلی غذا کیوں نہ دی جائے پھر بھی وہ انحطاط کی طرف ہی جائے گا۔ لیکن ایک بچہ کو اس سے چوتھائی حصہ بھی دی جائے تو وہ جلد جلد بڑھے گا پس محصن غذا کھانا ترقی کی علامت نہیں ہوا کرتی بلکہ ترقی میں عمر کا بھی دخل ہوتا ہے ۔ یہی حال قوموں کا ہے جو قومیں اپنی عمر کو پہنچ جاتی ہیں اور جن کی اجبل آجاتی ہے اور جو اس بات کی انتظار میں ہوتی ہیں کہ خدا تعالے کا ہاتھ بڑھے اور ان کو جڑھ سے کاٹ دے ان۔ ان کے لئے خواہ کتنی غذا کے خواہ کتنی غذا کیوں نہ مہیا کی جائے وہ پیچ نہیں سکتیں۔ بوڑھے آدمی کو مغزیات اور مقویات وغیرہ دینے سے ممکن ہے اس کی موت میں چند روز کا التوا ہو جائے لیکن وہ کسی کام کا نہیں بن سکتا ۔ ایک نوے سالہ بوڑھے کو کتنی غذائیں کھلاؤ اور مالشیں کرو۔ اگر اس میں کوئی تغیر ہو گا تو وہ نہ یادہ سے زیادہ ہیں کہ اگر لیٹا ہی رہتا ہو گا تو کسی وقت بیٹھنے لگ جائے گا لیکن دوبارہ پہلوان نہیں بن سکے گا۔ لیکن ایک بچے سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر اسے مقویات کھلائی جائیں تو وہ ترقی کر جائے۔ جو گھی اور مغزیات بوڑھے کو کھلائی جاتی ہیں وہ صنائع جاتی ہیں لیکن جو سوکھی روٹی بچہ کو دی جائے وہ کام آتی ہے کیونکہ بچہ اس سے بھی طاقت حاصل کرتا ہے۔ جو غذائیں بوڑھے کو دی جائیں وہ زیادہ سے زیادہ ایک دیوار بن سکتی ہیں جس سے وہ سہارا لے سکے۔ لیکن جو کچھ بچہ کو کھلایا جائے وہ ایک گھوڑا ہوتا ہے جو اسے ترقی کی منزل پر پہنچاتا ہے ۔ یہی حال قوموں کا ہے ۔ جب قومیں اپنی عمر گزار لیتی ہیں اس وقت ان میں اتحاد اور ان کی ترقی کے لئے خواہ کتنی کوشش کرو ، وہ زیادہ سے زیادہ ایک سہار کی دیوار ثابت ہوگی۔ لیکن جو نئی جماعت خدا تعالے کی طرف سے قائم کی گئی ہو اس کی ترقی کی کوشش سواریاں ہوں گی جو اسے لے کر دور دورے جائیں گی اور دنیا پر سلطا کر دیگی پس یاد رکھو کہ جب کوئی قوم اپنی اصل کو پہنچ جاتی ہے تو اسے قائم اور زندہ رکھنے کے لئے کوشش کرنا اپنے زور اور طاقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔ اور وہ شخص نادان ہے جو یہ کہتا ہے