خطبات محمود (جلد 2) — Page 133
۱۸ انر موده ، ارمنی ۱۹۳۰ ه بمقام قادیان) موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اختراق اس حد تک نمایاں اور ایسا دل شکن ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے اس زمانہ میں کسی کو یہ جرات ہی نہیں ہو سکتی کہ مسلمانوں کے اتحاد کے متعلق امیداور و تون سے کوئی بات کہہ سکے۔ جس طرح ایک ایسے جنگل میں جہاں سینکڑوں میل تک کوئی آبادی نہ ہو کسی کو امداد کے لئے پکارنا یا کسی سے جواب کی امید رکھنا ایک فضول اور عبث فعل ہے اور اگر کوئی ایسی حالت میں پکارے گا بھی تو اس کی آواز یقین اور وثوق سے خالی ہو گی ۔ ایک رسم اور عادت کے ماتحت ضرورت کے وقت ایک مصیبت زدہ چیخ پڑے گا۔ لیکن حقیقتاً اس کا دل امید سے خالی ہوگا اور وہ جانتا ہو گا کہ میری آواز بالکل بے اثر اور بے فائدہ ہے ۔ اس کی نگا ہیں اس عادت کے ماتحت جو بچپن سے اسے پڑچکی ہے او پر کو اٹھیں گی اور وہ اس طرح دیکھے گا جس طرح مصیبت کے وقت ایک انسان اپنے دوستوں اور پیاروں کی طرف دیکھتا ہے لیکن اس کی نگاہ امید اور تاثیر انسان اپنے اور کی لیکن اس نگاہ امید اور تاثیر سے خالی ہو گی ۔ اسی طرح اس زمانہ میں مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دینا یا ایک بات پر جمع ہوئے کی تلقین کرنا ایک غیر ممکن فعل اور بے فائدہ کام نظر آتا ہے ۔ ایسا کرنا ایک ایسی آواز سے مشابہ ہے جو صحرا میں اٹھتی اور وہیں فنا ہو جاتی ہے ۔ اور ایک ایسے شخص کی نگاہ ہے جو جنگل میں ایسے درختوں پر پڑتی ہے جو اس کی خواہش اور التجا کا جواب نہیں دے سے دے سکتے اور خود اس کے قلب میں بھی کوئی امید یا یقین نہیں ہوتا ۔ مگر با وجود اس حالت کے جس میں مسلمان اس وقت مبتلا ہیں اور باوجود اس مایوسی کے جو اس وقت ان کے خیر خواہوں کے دلوں میں پیدا ہو چکی ہے ہمارا ایمان ہے کہ بعض اوقات ایسے آجاتے ہیں جب خدا تعالے مایوسی کو امید سے اور غم کو خوشی اور ور غم کو سے تبدیل کر دیتا ہے۔ اگر ہمیشہ کے لئے انسان پر مایوسی ہی مایوسی طاری رہے تو وہ تمام اعلیٰ کاموں سے محروم رہ جائے ایس ۔ سے محروم رہ جائے اس لئے اللہ تعالے۔ انے نے انسان کے لئے امید کی گھڑیاں بھی پیدا کی کی ہیں اور خوشی کی ساعتیں بھی رکھی ہیں تا مایوسیوں کی غیر متزلزل اور لمبی کٹڑی اسے ہمیشہ کے لئے قوت عمل سے محروم نہ کر دے ۔ ہم سے مسلمانوں کو جو مخالفت ہے وہ ظاہر ہے اور بعض تو ہماری مخالفت میں اس حد تک بڑھے ہوئے ہیں کہ ان - ہوتے ہیں کہ ان کے نزدیک ہماری مخالفت میں وہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں ، جائز اور صحیح سمجھتے ہیں ۔ اور ان کی ساری طاقت ہماری طاقت کو توڑنے کے لئے صرف لے ہو رہی ہے ۔ خدا تعالے انہیں بار بار نا کام کر کے بتاتا ہے کہ وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن