خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 131

۱۳۱ مسلمانوں کو مار ڈالتے ہیں ۔ مگر یہ ان کی قربانی نہیں ہوتی بلکہ بزدلی ہوتی ہے جن میں طاقت ت اور قوت کے ساتھ بہادری ہوتی ہے ، وہ کسی کو تباہ کرنے پر دلیری نہیں کیا کرتے۔ بلکہ وہ مربعہ دیتے ہیں۔ میں نے کئی دفعہ بلی چوہے کی مثال سُنائی ہے۔ بلی چوہے کو پکڑ کر چھوڑ دیتی ہے۔ جب بھاگنا چاہتا ہے تو پھر کچھ لیتی ہے۔ وہ اسے یہ بتانا چاہتی ہے کہ چوہا اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا، تو فنا کر دینے پر آمادہ ہو جانا بزدلی کی علامت ہے۔ بہادر انسان اتنا ہی نقصان پہنچاتے ہیں جس قدر بقا کے لئے ضروری ہوتا کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ جتنے بڑے بڑے بہادر ہوئے ہیں اتنے ہی زیادہ عفو کرنے والے ہوئے ہیں اور جتنے ایسے بزدل ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کو تباہ کرنے کے سامان ہاتھ آگئے وہ فنا کرتے گئے۔ سچی بہادری یہی ہوتی ہے کہ دشمن پر قابو پانے کے بعد اتنی ہی تکلیف پہنچائے جو اس کے لئے اور اس کی قوم کے لئے ضروری ہو اور پھر خضو کر دیا جائے ۔ غرض قربانی کے لئے انسان سوائے مشق کے تیار نہیں ہو سکتا۔ اور یہ مشن اس خیر کے موقعہ پر اس طرح گرائی جاتی ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے جانور ذبح کرے ہے تا کہ جب خدا کے لئے خون بہانے کی ضرورت ہو تو خون بہائے اور جب رک جانے کا حکم ہو تو رک جائے چنانچہ ان دنوں خون بہایا بھی گیا ہے اور خون بہانے سے روکا بھی گیا ہے مسلمان آج خون بہا رہے ہیں۔ مگر آج سے دس بارہ دن پہلے مکتنے کی سر زمین میں شکار کرنے سے منع کر دیا گیا ہے غرض خدا تعالیٰ نے اس تقریب پر یہ مشق کرائی ہے کہ جب خون بہانے کے لئے کہا جائے تو خون بہاؤ اور جب کہا جائے مت بہاؤ تو رُک جاؤ جاؤ ۔ ۔ پس پس اس اس عید عید میں میں دونوں دور قسم کے کے تو نظارے رکھے گئے ہیں اور یہ تمثیلی زبان میں دیری اور جرات پیدا کرنے کے لئے مشق کا سامان ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کہ حقیقی تر بانی کے لئے تیاری کرنی چاہیئے ۔ اور ہماری جماعت میں دونوں قسم کی قربانی کرنے والے ہونے چاہئیں۔ وہ بھی جو دنیا میں تر ترقی کریں اور اپنے اموال کو خدا کے دین کے لئے صرف کریں ۔ اور وہ بھی جو کلی طور پر خدمت دین میں اپنے آپ کو لگا دیں اور دن رات اسی کام میں لگے رہیں ۔ خدا تعالئے ہماری جماعت میں دونوں قسم کے لوگ پیدا کرے ۔ جو نیک نیتی سے اپنا اپنا کام کریں ۔ انہیں اپنے کام پر استقلال حاصل ہو۔ اور وہ اسے اپنے لئے نعمت سمجھیں ۔ نہ وہ ہوں جو دنیوی ترقی کریں اور پھر اس پر فخر کریں کہ انہوں نے کوئی دین کا بڑا کام کیا ہے نہ وہ ہوں جو دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں اور پھر کہیں ان کی قربانی کی قدر نہیں کی گئی ۔ ان کی قربانیاں خدا کے لئے ہی ہوں اور اسی سے بدلہ چاہیں : ر الفضل ۲۸ سٹی ۱۹ء مشت ،