خطبات محمود (جلد 2) — Page 128
۱۲۸ 1८ رفر بوده ۲۰ مئی ۱۹۲۹ء بمقام باغ حضرت مرزا سلطان احمدرضا قادیا میں صحت کی خرابی کی وجہ سے اس وقت کچھ زیادہ تو نہیں بول سکتا ۔ کیونکہ جمعہ کے دن خطبہ پڑھنے کی وجہ سے جو جو کھانسی کی شدت ہو گئی تھی ، اس میں تخفیف نہیں ہوئی ۔ لیکن چونکہ اس تقریب پر کچھ نہ کچھ خطبہ کہنا سنت ہے اور قرآن کریم کی آیات سے بھی اس کا استدلال ہوتا ہے اس لئے میں اختصار سے موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ یہ عید ایک بہت بڑی قربانی کی یاد میں ہے اور یہ عید اس واقعہ کو یا د رکھنے کے لئے ہے که خدا کی تا ئم کردہ جماعتوں اور اس کے بنائے ہوئے سلسلوں میں کچھ افراد ایسے ہوں جوا اپنی زندگیوں کو کلی طور پر دین کے لئے وقف کر دیں۔ جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے ہر گز یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو یہ فرمایا کہ اقعد میں اپنے بچہ کو ذبح کر دو ۔ انسانی قربانی کبھی بھی شریعت اسلامیہ سے ثابت نہیں کہ دنیا میں جائز قرار دی گئی ہے ۔ قرآن شریف نے حضرت آدم کے زمانہ کی قربانی کا ذکر کیا ہے تہے اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ انسان کی قربانی نہیں بلکہ دوسرے جانوروں کی قربانی کی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کی قربانی کا بکرے کی قربانی کو قائم مقام قرار د و قائم مقام قرار دیا گیا بلکہ یہ بات ان معنور ن معنوں میں تو صحیح ہے کہ ایک انسان کی قربانی کا نشان قائم رکھنے کے لئے بجرے وغیرہ کی قربانی کا حکم دیا گیا ہے مگر یہ کہنا کہ پہلے انسان کی قربانی کا حکم بنا کا حکم تھا جسے بدلا گیا ، یہ غلط ہے ۔ کیونکہ حضرت تھا آدم کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے ۔ مگر انہوں نے انسانی جانوں کی قربانی نہیں کی بلکہ دوسرے جانور کی کی۔ ان کے متعلق جو روایات آتی ہیں وہ سچی ہوں یا جھوٹی ، ان سے پتہ لگتا ہے کہ ایک نے بکرے کی قربانی کی اور دوسرے نے اور چیزوں کی ۔ پس اگر وہ روایات صحیح ہوں یا ان کا کوئی حصہ صحیح ہو تو یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک جانوروں کی قربانی کا رواج رہا ہے کہ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک انسانوں کی قربانی کی جاتی تھی۔ پھر بکرے کی قربانی مقرر ہوئی ، یہ درست نہیں جبکہ ابتداء سے ہی یہی ثابت ہوتا ہے کہ انہی سلسلوں میں انسان کی قربانی کبھی نہیں دی گئی ۔ بلکہ اور جانوروں کی دی جاتی تھی کی بھی بچوں کو قربان کرنے کا حکم نہ دیا گیا تو پھر یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالے نے انسانی قربانی کو موقوف کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے بچے کی قربانی کا