خطبات محمود (جلد 2) — Page 126
174 قربانی جائزہ اور ضروری ہوگی ہاں اگر انسان پر خود کوئی مصیبت ہو تو وہ نہ کرے لیکن اگر توفیق ہو تو ضروری ہے۔ راستہ میں کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک شخص ۰۰ ۳ دن گوشت کھاتا ہے یا کھانے کی کوشش کرتا ہے مگر اسے اسلام کی حالت اور غربت اور خدمت دین اور اس روپیہ کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا خیال پیدا نہیں ہوتا لیکن ایک دن خدا کے لئے اسے کھانا پڑتا ہے تو اسے دین کے رہا خرچ کرنے کا خیالی آتا ہے۔ جب اپنی خواہش سے کھاتا تھا سے کھاتا تھا اس وقت تو اسلام کی مصیبت کے نہ تو اسلام کی مصیبت بھولے ہوئے تھا لیکن خدا کے حکم سے کھانا پڑا تو خدمت اسلام یاد آ گئی ۔ جب اپنا نفس کہتا ہے گوشت کھاؤ تو یہ ضرور کھاتا ہے لیکن جب خدا تعالے حکم دیتا ہے تو کہتا ہے یہ اسراف ہے اسے کسی طرح نیک خیال کیا جا سکتا ہے۔ یقینا یہ وسوسہ شیطانی ہے ۔ کہ پس جس کو توفیق ہو وہ قربانی ضرور کرے اور لوگ عید کے دن کھائیں نہیں تاکہ ان کے مایوسیاں دور ہوں اور امنگیں پیدا ہوں اور خیال ہو کہ خدا تعالے نے ان ۔ دلوں سے کے کھانے پینے کے دن بھی مقرر کئے ہیں۔ خدا تعالے ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عید کی حقیقت کو سمجھیں اور ہمیں ایسی قربانیاں کرنے کی توفیق دے جس کے نتیجہ میں یہ عید حضرت ابراهیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانی کی یادگار ہے ۔ والفضل 5 ارجون شملہ معا ، ه به سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب القصد في الخطبة ۔ ہے ۔ یہ جزیرہ نمائے عرب کا قدیمی شہر ہے جو بیت اللہ شریف کی وجہ مرجع خلائق ہے ۔ ۷۸ درجے طول عبد اور ۲۳ درجے عرض بلد پر واقع یہی وہ مقدس ہستی ہے جہاں فخر موجودات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے کہتے ہیں کثرت ازدحام کی وجہ سے مکہ کا نام بتہ بھی ہے مسجم البلدان ) اسے ام القریٰ بھی کیا گیا ہے والا نعام و ۶ : ۹۳) اس کا ایک نام البلد الامین الستین ۹۵ : ۴ بھی رکھا گیا ہے ۔ اس میں خانہ کعبہ وہ پہلا گھر ہے جو عبادت حج کے لئے تعمیر کیا گیا ہے وآل عمران ۳ : ۱۹۷ د مائده ۵ : ۹۸) اور ۴ - بیت المعمور سوی ۳ ۳۰ بریت برت اسے ۲ بیت العب العقيق رابح والطور (۵۲ : ۵) بھی کہا گیا ہے ۔ ت الحرام ما سے ۔ مکہ سے عرفات کی جانب قریبا سو میل کے فاصلہ پر پہاڑیوں میں گھری ہوئی ایک سستی ہے، جہاں حاجی قربانیاں کرتے اور جمرات پر کن پر کنکریاں پھینکتے ہیں ۔ ہے۔ ایک کشادہ میدان جو مٹی سے شرقی جانب تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے اس میں بطن مستر ایک خاص مقام ہے جہاں اصحاب فیل ہلاک ہوئے تھے ۔ ورز والحجہ غروب آفتاب کے بعد حاجی یہاں مشعر الحرام میں قیام کرتے اور صبح کی نماز کے بعد منی چلے جاتے ہیں ۔