خطبات محمود (جلد 2) — Page 115
۱۱۵ حضرت ابرا محبت کرنے والے ماں باپ ہوتے ہیں، اتنی ہی زیادہ انہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کے بچے خوب کھائیں پئیں ۔ مگر یہ حیوانوں والی زندگی ہوتی ہے ، زندگی ہوتی ہے، اس طرح وہ گویا اولاد نہیں پالتے۔ بلکہ دنبہ پالتے ہیں۔ کیونکہ دنبہ کے لئے صرف کھانے پینے اور رہائش ہی کی فکر کرنی پڑتی ہے اور بہت لوگ اپنی اولاد کی بھی اتنی ہی فکر کرتے ہیں کہ اسے اچھا کھلائیں ، اچھا پلائیں اچھی رہائش ہو، اچھا کیا اچھا کپڑا اپنائیں، یہ دنبہ کی نسبت زائد بات ہوگی ۔ کیونکہ دنبہ کپڑے نہیں بین سکتا ۔ لیکن دیکھا ہے بعض لوگ دنیوں کو بھی جھولیں بناتے ہیں۔ اللہ تعالے نے جب مہ کو رویا میں یہ دکھایا کہ اسمعیل کو ذبح کر دیا تو اس کا یہ مطلب تھا السلام کو رویا ہیں : کہ اسمعیل میں جو دنبہ کا کی خصلت ہے اسے ذبح کرو۔ یہ نہیں کہ اس کی انسان کہ اس کی انسانیت کی خصلت کو ذبح کر دو ۔ خدا تعالے نے بتایا ۔ اسے ابراہیم ۹۰ سال کی عمر میں تمہارے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اس لئے تمہاری خواہش ہو گی کہ اسے اچھا کھلاؤ پلاؤ ، ہر طرح اسے آرام پہنچاؤ۔ لیکن اس طرح تو یہی ہو گا جیسے دُنبہ پالا ، اس سے کیا پالا ، اس سے کیا فائدہ ہو گا دنیا کو اور اس سے کیا نفع ہو گا تمہارے خاندان کو ۔ یہ ایک دنبہ ہوگا او نیں ۔ اس لئے آج ہم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ دنبہ کو ذبح کر دو ۔ گویا انسانیت باقی رہے اور دنبہ بن ذبیح ہو جائے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے اس حکم کو عملی جامہ اس طرح پہنایا کہ دنیا سے الگ تھلگ ایک وادی غیر ذی زرع میں جہاں دہنہ نہ بن سکے ، حضرت اسمعیل کو چھوڑ آئے ۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اہلی زندگی کی اصلاح کی بنیاد رکھی گئی اور بنایا گیا کہ بیٹوں کو دنیوں کی طرح نہ پالو بلکہ ان کی روحانی تربیت کا خیال رکھو چنا نچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہمیل کی قربانی کرو اور اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام تیار ہو گئے تو سنع خدا تعا لئے نے یہ کر دیا۔ اس لئے حضرت اسمعیل کی قربانی نہ ہوتی بلکہ دنیہ کی قربانی کی۔ اور جب خدا تعالے نے یہ فرمایا کہ اسمعیل کی نسل میں نبوت رہے گی تو یہ نتیجہ تھا دنبہ کی قربانی کا مطلب یہ کہ اگر اولاد کی اصلاح اور تربیت کا خیال رکھا جائے گا اور اسے دنبہ کی طرح نہ پا لو گے بلکہ دنبہ بن کو قربا کر دو گے تو اس کے نتیجہ میں اس اولاد میں نبوت رہے گی۔ اس وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت رہنے کا وعدہ تھا اور نہ یہ ظالمانہ وعدہ بن جاتا ۔ اور اس طرح لحاظ بن جاتا ہے کہ ابراہیم علیہ اسلام کی اولا د خواہ کیسی ہی ہو اس میں نبوت رہے گی۔ اور دوسروں کو اس سے محروم رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر اولاد کی تربیت کے وقت تم محبت کے احساسات کو قربان کر دو گے۔ اس کے اندر اچھے اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کروگے اس کے آرام و آسائش کو اس لئے قربان کر دو گے کہ خدا تعالے کی محبت اس کے دلی کیا