خطبات محمود (جلد 2) — Page 113
١٤٣ ہیں اور بکرے کی قربانی کر دیتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ بکرے کی قربانی کس بات کی علامت ہے اور خداقا لے نے حضرت ابراہیم علیہ ت ابراہیم علیہ السلام سے کیا چاہا تھا ۔ سے لیتے مگر میں نے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو قربانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ہیں پہلے اس قربانی کو لیتا ہوں جس میں خدا تعالے نے چاہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اپنی دکھانے اور ایک عظیم الشان نشان قائم کرے ۔ اس وقت بالکل ممکن تھا کہ حضرت قدرت دل ابراہیم علیہ السلام وہ ملک چھوڑ کر کسی و سی دوسرے ملک میں چلے جاتے اور اس طرح اپنی جان سپ مگر انہوں نے نے ایسا ایسا نہ کیا ۔ اور اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحہ ماتحت اپنی اپنی جان دینے کے لئے تیار ہو گئے ۔ یہ اس وقت ہوا جب عراق میں ان کی قوم نے فیصلہ کیا کہ ان کو جلا دیں۔ حضرت ابراہیم علیہ سلام بچپن سے ہی ایسی فطرت رکھتے تھے جو توحید کی تائید میں اور مشرک کے خلاف بھی بچنا نچہ جب ان کے رشتہ داروں نے ان سے مشرک کے متعلق مباحثہ کیا تو انہوں نے سختی سے اس کا د کیا ۔ ان کا ایک خاندانی ثبت خانہ تھا، اس سے عملی طور پر نفرت اور شرک سے بیزاری کے اظہار کے لئے انہوں نے اس طرح کیا کہ بتوں کو توڑ دیا سی یہ بہت جس بتخانہ کے توڑے گئے وہ کسی دوسرے کا نہ تھا۔ اگر در سروں کا ہوتا تو اس کا توڑ نا جائز نہ ہوتا ۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا تھا اور انہیں ورثہ میں ملا تھا۔ اور چونکہ پتھر پتھر سی ہوتا ہے ۔ اس لئے انسان کی ملک تھا انہوں نے اس بت خانہ کو کہ جو ان کے لئے آمدنی کا ذریعہ اور عورت کا باعث تھا توڑ دیا ۔ جب انہوں نے بتوں کو توڑا تو سارے ملک میں جوش پیدا ہو گیا۔ اور بادشاہ کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا ۔ ملک کے دستور اور بادشاہ کے قوانین کے مطابق اس فعل کی سزا جلا دینا تھا یہ اور اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے موقع تھا کہ بہتوں کو توڑنے کے بعد اس ملک سے باہر چلے جاتے مگر وہ نہ گئے حالانکہ جانتے تھے کہ ملک کے قانون کے مطابق اس کی سزا جلا دنیا ہے ۔ یہ ایک پرانی رسم تھی کہ جو بتوں کی مبتک کرتا اسے جلا دیا جاتا۔ کیونکہ بہتوں کی ہتک کرنے کو ارتداد سمجھا جاتا اور ارتداد کی سزا پرانے زمانہ میں یا تو جلانا تھی یا سنگسار کردینا ۔ چنانچہ یورپ میں جب پروٹسٹنٹ عقیدہ کے عیسائی پیدا ہوئے تو انہیں مرتد قرار دے کر آگ میں جلا دیا انتھائیے اس کے مقابلہ میں ایشیا میں سنگسار کرنے کا رواج تھا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو معلوم تھا کہ بہتوں کو توڑنے کی وجہ سے کیا سزا ہو گی۔ اور وہ وہاں سے بھاگ سکتے تھے مگر خدا تعالے چاہتا تھا کہ نشان دکھائے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا ، ٹھہرو اور وہ گھر سے رہے اور اس طرح اپنے نفس کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ آخر ان لوگوں نے آگ جلاتی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ڈال دیا لیکن عین اس موقع پر بادل آیا جس نے جاتا