خطبات محمود (جلد 2) — Page 4
اپنی اولاد کی قربانی کرتے ہیں ان کی اولاد دنیا میں کبھی ضائع نہیں ہو سکتی ۔ میں آج تم دیکھ لو کہ ملکوں کے ملک آباد ہیں ۔ اور ہزار ہا ایسی قومیں ہیں جو اپنے آپ کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولا د بتاتی ہیں ۔ تو خدا تعالے لئے اولاد کو اپنی راہ میں قربان کرنے کا طریقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا۔ اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ وہ لوگ بے وقوف اور کم عقل ہیں ، جو چھری سے اپنے بیٹوں کو ذبح کر کے خدا کی راہ میں قربانی دیتے ہیں ۔ یہ ان کی قربانی کسی کام کی نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی نتیجہ ان کے لئے مرتب ہوتا ہے ۔ اصل قربانی اپنی اولاد کو خدا کی راہ میں وقف کر دینا ہوتی ہے۔ اور یہ ایک بیج کی طرح ہوتی ہے جس سے آگے لاکھوں دانے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور کبھی ایسی قربانی صنائع نہیں ہوتی ۔ آج مکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرنے کے لئے ہزار ہا قربانیاں ہو رہی ہیں اور دہی یادگار قائم کی جا رہی ہے یہ ابرا تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال کو دیکھو وہ کس طرح اس جنگل میں اپنے بیٹے کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور خدا نے جنگل سے ہی اس کے لئے پانی اور دانہ مہیا کر دیا ۔ یہ بڑا درد ناک واقعہ ہے ۔ حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ کو بمعہ ان کے بچے کے اس جنگل میں چھوڑ چلے تو حضرت ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہمیں یہاں کسی کے بھروسہ پر چھوڑ چلے ہیں جہاں نہ نہ یا پانی ہے نہ کھانا ، نہ کوئی ساتھی ہے اور نہ مددگار تو حضرت اب ابراهيم علیہ السلام نے کہا کہ میں تم کو خدا پر چھوڑ چلا ہوں ۔ انہوں نے کہا۔ بس جاؤ ۔ اب ہمیں کسی کی پر واہ نہیں۔ ہمارے لئے ہمارا خدا کافی ہے۔ جب وہ مشکیزہ پانی کا جو حضرت ابر اہیم علیہ السلام ان کے لئے چھوڑ گئے تھے ختم ہو گیا اور اسماعیل پیاس کی کی وجہ وجہ سے رونے نے لگا۔ اور وہاں وہاں ارد اروما گردبانی چھوڑ کہیں سبزہ بھی نہ تھا تو اس وقت حضرت ہاجرہ گھبرائیں اور بچے کو بلبلاتا ہوا ان سے نہ دیکھا گیا تو ادھر اُدھر پانی کی تلاش میں دوڑنے لگیں۔ لیکن وہاں پانی کہاں مل سکتا تھا۔ خالی ہاتھ واپس بچے کے پاس آئیں ۔ مگر بچہ کی شکل دیکھ کر پھر گھبرا گئیں۔ اور بچے کے اضطراب اور بلبلاہٹ کو نہ دیکھ سکیں پھر دوڑنے لگیں۔ آخر کار ایک فرشتہ کے ذریعہ انہیں معلوم ہوا کہ ایک چشمہ پھوٹا وہ اس جگہ آئیں اور اس چشمہ کو پایا ۔ جس کو آب زمزم کہا جاتا ہے۔ زم کیا جاتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر ہاجرہ اس چشمہ کو روک نہ دیتیں تو یہ دور دور تک پھیل جاتا ہے تو یہ ایک قربانی تھی آج بھی قربانیاں کی جائیں گی۔ لیکن ان قربانیوں کے کرنے والوں کو خیال کرنا چاہیئے کہ یہ قربانیاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے کیا نسبت رکھتی ہیں ان کی تو یہ قربانی تھی کہ خدا تعالٰی نے ہے۔ وہ اس غالباً یہاں کچھ الفاظ رہ گئے ہیں حضور رضی اللہ عہ کے کہنے کا منشا یہ ہے کہ میں تمہیں خدا کے سہار چھوڑ چلا ہوں (مرتب) به