خطبات محمود (جلد 2) — Page 108
۱۰۸ ستاروں کی طرح بے شمار ہوگی اور جہاں کہیں وہ جانے کی برکت دی جائے گی۔ تو حضرت ابراهیم علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ قربانی ترقیات کا باعث ہوگئی۔ ہیں۔ اب بھی ترقی پانے کا یہی راستہ ہے۔ کوئی قوم ترقی نہیں پاسکتی جب تک اس قوم کے تمام مرد تمام عورتیں اور تمام بچے قربانیاں نہیں کرتے ۔ دنیا میں وہی قومیں بڑھیں جن کے مرد بھی اور عورتیں بھی اور بچے بھی قربانیاں کرتے رہے ۔ پس یہ جو عید ہے یہ در حقیقت ہمیں قربانیوں کا سبق دیتی ہے اور اس بڑی قربانی کو یاد کراتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کی اور جس کے سبب وہ ترقی پا گئے۔ یہ قربانیوں کی عید ہے۔ بے شک ہم اس موقع پر جانوروں کی قربانیاں کرتے ہیں لیکن یہ قربانیاں ہمیں دوسری قربانیاں کرنے کا سبق پڑھانے والی ن پڑھانے والی نہیں تب حقیقی قربانیاں ہیں ۔ اس لیئے ہیں پھر کہتا ۔ لیتا ہوں کہ ان قربانیوں کی طرف بھی توجہ کرو، چھوٹا ہو یا بڑا، عورت ہو یا یا مرد ہر ایک اس قسم کی قربانیوں کے لئے تیار ہو کیونکہ ان کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی ۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ بعض مرد تو قربانیاں کرتے ہیں مگر ان کی بیویاں اور بچے نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ترقی نہیں ہوتی پس چاہیئے کہ سب کے سب دین کے لئے قربانیوں میں لگ جائیں ۔ اگر مرد قربانیاں کرنے والے ہوں اور عورتیں اور بچے نہ ہوں تو یہ بھی کوئی عمدہ بات نہیں ۔ اور اگر مرد اور فوری قربانیاں کرتے ہوں اور بچے نہ کرتے ہوں تو پھر بھی ترقی نہیں ہو سکتی ۔ پھر اگر مرد اور بچے قربانیاں کرتے ہوں اور عورتیں نہ کرتی ہوں تو یہ بات بھی ترقی کے لئے مضر ہے ۔ ترقی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ مرد بھی قربانیوں میں لگے ہوئے ہوں۔ عورتیں بھی قربانیوں میں لگی ہوئی ہوں اور بچے بھی قربانیوں میں لگے ہوئے ہوں ۔ ان قربانیوں کے ساتھ ساتھ اولاد کی تربیت بھی ہے۔ ایک عورت اگر اپنی اولاد کی تربیت عمدہ کرتی ہے تو یہ بھی اس کی ایک قربانی ہے کیونکہ وہ ایسے مرد تیار کر رہی ہے جو قوم کے لئے مفید ہو سکتے ہیں لیکن اگر عورتیں تربیت نہیں کرتیں اور اولاد کی تربیت ایسی نہیں ہوئی جو وقت پر قوم کے لئے مفید ثابت ہو تو وہ کوئی نقش پائیدار نہیں چھوڑ رہیں ہیں عورتوں کو بالخصوص چاہیے کہ وہ ان فراری کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کی تربیت کو بھی اچھا بنائیں ۔ یہ عید ہمیں قربانی سکھاتی ہے ، ہمیں چاہیئے کہ جو کچھ ہی سکھاتی ہے اس پر عمل کریں ۔ اگر ہم اپنے آپ کو تو قربان کرتے ہیں اور اپنی فوتوں اور بچوں کو قربان نہیں کرتے تو یہ بھی ہمارے لئے مفید نہیں ۔ ہمارے لئے مفید ہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو بھی قربان کر دیں اور بیوی بچوں کو بھی قربان کر دیں اور نہ صرف یہ بلکہ ان میں خود قربان ہونے کی روح پیدا کریں ۔ تب جا کر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم حبیبی قربانی کی۔ پس یہ ایک عظیم الشان سبق ہے جو اس قربانی سے ہمیں ملتا ہے اور جس کی یاد کے لئے ئیوں