خطبات محمود (جلد 2) — Page 106
۱۰۶ وہ جانتے تھے کہ خدا تعالے مجھ سے ناجائز کام نہیں کرائے گا، اس کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے اگر وہ اس کی منشاء کے خلاف چلنے لگے گا تو اسے روک لے گا۔ اور ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں انسانی قربانی کے خلاف کوئی نص نہ تھی ۔ پس یہ اس زمانہ میں شرعی حکم تھا جس کے سامنے حضرت اسمعیل علیہ السلام نے اپنے آپ کو جھکا دیا ۔ اور ذبح کئے جانے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس انسانی قربانی کا رواج حضرت نوح علیہ ال علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیانی زمانہ میں ہوا ۔ پس حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام پر اس بات کا کوئی الزام نہیں آسکتا کہ کیوں آپ پانی قربانی کے لئے آمادہ ہوئے اور ایسا ہی حضرت اسمعیل علیہ السلام پر بھی کوئی الزام نہیں آسکتا کہ کیوں آپ نے اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش کر دیا اور آمادگی ظاہر کر دی ۔ از بعض کام خدا تعالے بعض خاص خاص لوگوں کے ہاتھ سے اس لئے کراتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے سبق ہوں ۔ حضرت ابراہیم کی یہ قربانی در حقیقت اولاد کی محبت کی قربانی تھی۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بیٹا کہلانے والے شخص کی بیوی سے نکاح پڑھا یا گیا ہے جس سے یہ بات ببانی مقصود تھی کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ اس وقت عرب میں یہ دستور تھا کہ جس کو بیٹا کہ دیتے وہ بیٹا ہو جاتا۔ اور پھر اس کی بیوی سے وہ شخص جس کا کہ وہ بیٹا لئے نے یہ کہلاتا نکاح نہ پڑھا سکتا ۔ مگر انحضرت رت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے خدا تعالے کام کرا کر بتا دیا کہ یہ دستور غلط ہے اور اور آئے آئندہ اس۔ سے بچا جائے ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام سلام کے کے ہاتھ ہاتھ سے اولاد کی محبت کو خدا کی محبت کے لئے لئے قربان کر دینے کا فعل کرا کے بتا دیا کہ خدا کی محبت کے سامنے کسی اور کی محبت دل میں نہیں ہونی چاہیئے اور اگر ہو تو اسے قربان کر دینا چاہیئے ۔ غرض حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ظاہر طور پر اس خواب کو پورا کرنے کے لئے جو نہی حضرت اسمعیل کو لٹایا ۔ آواز آئی کہ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيا - اسے ابرار اسے ابراہیم تو ضرور ہی اپنی خواب کو پورا کرے گا۔ جب تو نے اس کو ظاہری صورت میں پورا کرنے کے لئے تیاری کر دی تو جو معنے اس کے فی الواقع ہیں۔ وہ بھی ضرور پور سے کر گیا ۔ صدق کے معنے ہیں سچا سمجھنا یعنی تجھے اپنی خواب پر بڑا ہی یقین ہے تو نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ شائد اس کے کچھ اور معنے ہوں اور اس کو پورا کرنے پر تل گیا ۔ قد وقوعہ پر دلالت کرتا ہے کہ ہو چکا ہے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے خواب کے مطابق پورے یقین اور ایمان کے ساتھ اس رنگ میں اس کام کے کرنے کا تہیہ کیا کہ گویا وہ کر ہی لیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم کو اپنے خواب کو اپنے خواب پر پورا پورا بھروسہ تھا اور یہ بھی یقین تھا کہ خدا تعا لئے میرا ہاتھ ۔ لئے میرا ہا تھ ناجائز بات پر نہیں اُٹھنے دے گا۔ کھنے دے گا ۔ اسی بناء پر انہوں نے یہ کام کیا۔ چنانچہ ان کے ایمان اور یقین اور آمادگی کو دیکھ کر خدا تعالے نے کہا کہ تو نے گویا