خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 98

۹۸ حضرت موسی علیہ السلام کے وقت میں لوگ ترکیہ میں یکدم ترقی کر گئے۔ لیکن حضرت علیئے علیہ الصلوٰة و السلام کے وقت چونکہ قربانی آہستہ آہستہ تھی، تزکیہ بھی آہستہ آہستہ ہوا ۔ حضرت موسیٰ کے وقت ایسا نہیں ہوا۔ ان کے وقت یہ باتیں معا ہوئیں اور لوگ تربیت میں تیزی کے ساتھ بڑھ گئے تزکیہ میں بھی سرعت کے ساتھ ترقی کرلی ۔ ساتھ ترقی کر لی ۔ اور تمام ترقی میں بھی اس وقت کے لوگوں پر فوقیت حاصل کر لی۔ حتی کہ حضرت موسی کے زمانہ میں لوگوں کو اس قدر الہام ہوتے تھے کہ لوگوں کو شبہ پڑ گیا تھا کہ شاید یہ بھی نبی ہو جائیں گے۔ قرآن کریم میں جو واقعات ان کے بیان کئے گئے ہیں وہ ان کی عام حالت نہیں ہیں وہ یہود پر حجت پکڑنے کے لئے لائے ۔ مائے گئے ہیں۔ اور اگر ان واقعات کو ان کی عام حالت سمجھ لیا جائے تو یہ درست نہ ہو گا ۔ کیونکہ جو مثالیں بیان کی گئی ہیں وہ جرم کی مثالیں ہیں ۔ ورنہ عام حالت مگا روحانی ترقی کرتی چلی گئی ہے۔ توریت میں آتا ہے لوگوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ و السلام کے پاس آکر شکایت کی کہ آپ کے ماننے والے کثرت سے الہام پانے کا دعوی کرتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام و السلام نے کہا کہ ہیں تو چاہتا ہوں سب نبی ہو جائیں ۔ تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوة وا و السلام کی قوم در حقیقت روحانی ترقی کے منازل کی کو بہت جلدی طے کر گئی تھی لیکن اس کے مقابل عیسائی قوم کی ترقی آم ترقی آہستگی سے ہوئی ۔ وہ بہت جلدی اور فورا روحانیت کے اعلیٰ مدار اعلیٰ مدارج پر نہ پہنچ گئی تھی بلکہ آہستگی سے روحانی مدارج پر چڑھی کیونکہ اس کی قربانی بھی آہستگی کے ساتھ ہوئی ۔ سو جہاں قربانی فوری اور یکدم ہو گی وہاں ترقی تزکیہ اور روحانیت بھی فوری طور پر ترقی کرے گی ۔ اور جہاں قربانی آہستگی کے ساتھ ہوگی وہاں رقی ترکیہ اور روحانیت بھی آہستگی کے ساتھ بڑھے گی۔ چونکہ موسی علی الصلوۃ والسلام کے وقت میں قربانی فوری ہوئی ۔ اس لئے ان کی ترقی بھی فوری ہوئی ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جتنے بھی مثیل ہوں گے ان میں جلدی طہارت - تزکیہ نفس، روحانیت اور ترقی پیدا ہو گی اور چونکہ حضرت عیسی علیہ الصلواۃ و السلام کے وقت میں قربانی آہستگی کے ساتھ ہوئی اس لئے مماثلت کے سلسلے میں جتنے سلسلے ہوں گے ۔ ان میں طہارت تن تزکیہ نفس، روحانیت اور عام عیسوی ترقی آہستگی کے ساتھ ہو گی ۔ چند دن ہوئے میں نے سنا بعض لوگ کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے تو لکھا ہے تین ماہ میں اگر ایک پلیسیہ بھی چندہ دید و تو کافی ہے کہ مگر یہاں آپ لحظہ لحظہ اسے بڑھار رہے ہیں۔ ایک آنہ فی روپیہ ماہوار آمد پر چندہ کر دیا گیا ہے اور ابھی اور بھی بڑھانے کا خیال ہے ۔ ٹھیک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا ہی ایسا ہی فرمایا ہے۔ اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ بعد میں آنے والوں نے چندہ کی شرح بڑھا دی۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کیوں