خطبات محمود (جلد 29) — Page 79
1948ء 79 خطبات محمود انہیں تمام بات سمجھائی تب انہیں پتہ لگا اور کہنے لگے پہلے میں سمجھا نہیں تھا کہ آپ کا منشاء کیا ہے۔ تو دیکھو لفظ بیل ایک ہے مگر اس سے کوئی معین حقیقت ذہن میں نہیں آتی ۔ گائے کو لو تو دو ہزار روپے کو بھی گائے آتی ہے اور میں میں روپے کو بھی گائے آجاتی ہے۔ گھوڑے کو لو تو ایسے ایسے گھوڑے بھی ہیں جو تین تین لاکھ روپیہ تک سکتے ہیں اور ایسے گھوڑے بھی ہیں جو پچیس تیس روپے میں مل جاتے ہیں ۔ غرض یہ ایک حقیقت ہے جو دنیا کی ہر چیز میں ہمیں نظر آتی ہے کہ محض نام سے کسی چیز کا معین نقشہ سامنے نہیں آتا جب تک اُس کی تفاصیل بھی ساتھ نہ ہوں ۔ لیکن تعجب ہے مسلمان ایمان کا لفظ تو استعمال کرتا ہے مگر یہ نہیں دیکھتا کہ ایمان کی حقیقت بھی اُس کے اندر پائی جاتی ہے یا نہیں۔ وہ یہ تو کہتا ہے کہ میں مومن ہوں، وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں احمدی ہوں ۔ مگر پوچھو کہ کس قیمت کا احمدی ؟ تو خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ کبھی یہ سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا کہ وہ دو پیسے بٹی بکنے والاخر بوزہ ہے یا ایک روپیہ بیٹی پکنے والاخر بوزہ ہے، وہ گندا آم جس کا پیٹ پھول جاتا ہے اور اُس میں کیڑے پڑ جاتے ہیں وہ بھی آم کہلاتا ہے اور وہ بھی آم کہلاتا ہے جو سو سو روپیہ سینکڑہ فروخت ہوتا ہے۔ کیا کبھی تم نے غور کیا کہ تم کونسا آم ہو؟ تم وہ آم ہو جس کا پیٹ پھول کر پھٹ جاتا اور اُس میں کیڑے پڑ جاتے رے پڑ جاتے ہیں یا وہ آم ہو جسے لوگ پچاس یا سو روپیہ سینکڑہ کے حساب سے لے جاتے ہیں اور پھر بھی سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے نفع کمایا۔ ہر چیز کی قیمت اُس کی تفصیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوتی ہے۔ مثلاً اچھے آم کی تفاصیل یہ ہیں کہ اُس کا حجم معقول ہو، اُس کا مزہ اچھا ہو، اُس کی خوشبو اعلیٰ ہو۔ جو آم ان تفاصیل کا حامل ہوتا ہے اُسے ہم اچھا آم کہہ دیتے ہیں۔ اور جو آم ان تفاصیل کا حامل نہیں ہوتا اُسے اچھا آم نہیں کہتے ۔ اسی طرح ایمان کی بھی بعض تفاصیل ہیں۔ مثلاً جو شخص ایمان کا دعوی کرے اُس کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی نمازوں میں با قاعدگی پائی جاتی ہو، وہ امانت اور دیانت کا حامل ہو، وہ سچ بولنے والا ہو، وہ محنت کرنے والا ہو، وہ ظلم اور دھوکا اور فریب سے بچنے والا ہو، اور وہ بنی نوع انسان کے حقوق کو ادا کرنے والا ہو۔ اگر کسی شخص میں یہ علامات نہیں پائی جاتیں اور وہ منہ سے ہزار بار بھی مومن ہونے کا دعوی کرتا ہے تو اُس کا دعوی اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم سڑا ہواخر بوزہ کسی کو دو تو وہ خوش نہیں ہو گا بلکہ تمہارے منہ پر مارے گا کہ تم نے اُس کی ہتک کی۔ یہی حال آم اور دوسرے پھلوں کا ہے۔ ایسے آم بھی ہوتے ہیں جنہیں اور لوگ تو الگ رہے بادشاہ بھی شوق