خطبات محمود (جلد 29) — Page 45
1948ء 45 خطبات محمود پس یہ وقت ہماری جماعت کے لیے نہایت ہی نازک ہے۔ اس لیے کہ اسلام کی کشتی کو پار لگانا ہمارے ذمہ ہے۔ بے شک ہر شخص جو مسلمان کہلاتا ہے یہ فرض اُس پر بھی عائد ہوتا ہے لیکن یہ فرض اُسے بھولا ہوا ہے اور نئے سرے سے وہ کوئی عہد نہیں کرتا ۔ اور اگر عہد کی کوئی حقیقت ہے، اگر عہد جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے مسئول ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے متعلق سوال کیا جائے گا تو پھر اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے حضور تازہ عہد کرنے والے زیادہ ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔ باقی لوگ وہ ہیں جن میں سے کسی نے دس پشت سے اور کسی نے ہیں پشت سے عہد کیا تھا۔ ماں باپ نے عہد کیا جو اولاد نے بھلا دیا۔ بے شک ان کی اولا د کا بھی فرض ہے کہ اپنے ماں باپ کے عہد کی قدر و قیمت کا احساس کریں اور اپنے اعمال میں تغیر پیدا کریں لیکن اس عہد کی وہ شان نہیں جو اُس عہد کی ہے جو براہ راست کیا جائے ۔ پس جب تک جماعت اس ذمہ داری کو نہیں سمجھتی جو اس تازہ عہد کی وجہ سے اُس پر عائد ہوتی ہے اُس وقت تک وہ اپنے ایمان کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کرتی اور اُس وقت تک اسلام اور احمدیت کا بھی روشن مستقبل نظر نہیں آسکتا۔ اس بارہ میں بے شک جماعت کے اور افراد بھی ذمہ دار ہیں مگر سب سے زیادہ فرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر عائد ہوتا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے ، بہت سے ایسے ہیں جو دنیوی کاموں میں مشغول ہیں اور ایسے نازک وقت میں خدا اور اُس کے رسول کو چھوڑ کر اپنے ذاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ میں نے بتایا تھا کہ ان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں بالصراحت تھا اس کا ذکر آتا ہے کہ اگر وہ نیکی کریں گے تو ان کی نیکیاں اُنہیں دوسروں سے زیادہ ثواب کا مستحق بنائیں گی۔ لیکن اگر وہ غلطیاں کریں گے تو اُن کی غلطیاں اُنہیں دوسروں سے زیادہ سزا کا مستحق بنائیں گی۔ میں نے اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ جماعت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ جماعت بھی لفظی نے اس طرف بھی توجہ دلائی کہ جماعت کو اپنی ذمہ صاحبزادگیوں کی طرف جاتی ہے حالانکہ لفظی صاحبزادگیوں کی بجائے ہمیں حقیقی صاحبزادگی اپنے مد نظر رکھنی چاہیے۔ گویا اُن کا طریق عمل بھی دوسروں کو سبق دینے والا نہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں جتنی کمزوری ہو گی ہم کو اس سے زیادہ کمزوری دکھانے کا موقع ملے گا۔ اس لیے منع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ مگر اس طریق پر چل کر دونوں میں سے کسی کا بچاؤ نہیں ہو سکتا۔ خدا سے عہد باندھ کر