خطبات محمود (جلد 29) — Page 41
1948ء 41 خطبات محمود کشتیاں آسانی سے نہر میں آجاتی تھیں لیکن نہر سے جانے والی کشتیاں بڑی مشکل سے ڈل کی طرف جاتی تھیں۔ چھوٹی کشتیاں جن کو کشمیری اصطلاح میں شکارا کہتے ہیں وہ تو معمولی سی کوشش سے ڈل میں چلی جاتی ہیں لیکن بھاری کشتیوں کے لیے سخت دقت ہوتی ہے اور اُن کو بوجھ کی وجہ سے بہاؤ کے مقابل ہے اور کو پر لے جانا بڑی مشکل بات ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ اس اثناء میں ایک ایسی کشتی آئی جو اپنی سبزی تر کاری بیچ چکی تھی اور واپس گھر کی طرف جا رہی تھی ۔ اس کشتی میں تین چار مرد تھے اور تین چار عورتیں اور کچھ بچے تھے۔ اُن سب کو ملا کر گیارہ بارہ آدمی ہوں گے۔ جب یہ کشتی ڈل کی طرف جانے لگی تو پانی کے بہاؤ کی وجہ سے اُس کے راستہ میں سخت روک پیدا ہو گئی اور بانس کا استعمال اور چپو کا استعمال بیکار نظر آنے لگا۔ اس پر کشتی میں سے ایک دو آدمی پھاند کر نیچے اُتر گئے اور اُنہوں نے رسہ سے کشتی کو اوپر کھینچنا شروع کیا۔ لیکن اُن آدمیوں کا زور بھی اس بارہ میں کامیاب ثابت نہ ہوا اور کشتی پھر بھی اوپر نہ چڑھ سکی۔ تب اور مرد بھی کود گئے اور انہوں نے زور لگا کر کشتی کواو پر کھینچنا چاہا لیکن پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔ کشمیری لوگوں کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آئے اور انہیں زور لگانا پڑے تو وہ عام طور پر جیسے ایک دوسرے کا تعاون حاصل کرنے کے لیے بعض لوگ خاص الفاظ استعمال کرتے ہیں تا کہ اکٹھا زور لگ سکے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ اور کشمیری لہجہ کے مطابق لَا إِلَهَ إِلَّا الله کی بجائے لا يله يل الله کہتے ہیں۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ کشتی اوپر نہیں آتی تو مردوں نے مل کر رشتہ اوپر کی طرف کھینچنا شروع کیا اور ساتھ ہی کا يله بل الله کا نعرہ بھی لگانے لگے ۔ اس آواز سے کشتی میں بیٹھی ہوئی عورتوں اور بچوں نے بھی سمجھ لیا کہ اب مشکل وقت آ گیا ہے۔ چنانچہ جو چو خالی پڑے تھے وہ اُنہوں نے پکڑ کر خود چلانے شروع کر دیئے اور جن کے پاس بانس تھے وہ بانس چلانے لگے اور اس کے ساتھ ہی بچوں نے اپنے ہاتھ سے پانی دھکیلنا شروع کر دیا لیکن اُن کی یہ ساری تدبیریں ناکام رہیں۔ تب جو بچوں میں سے لڑکے تھے وہ گود گئے اور اُنہوں نے بھی مل کر مردوں کے ساتھ زور لگانا شروع کیا مگر جب اُنہوں نے دیکھا کہ یہ کشتی کسی طرح نہیں ہلتی اور لا پله پل الله کے الفاظ نے کوئی کام نہیں کیا تو انہوں نے یا شیخ ہمدان کے نعرے انے شروع کر دیئے ۔ شیخ ہمدان ایک بزرگ تھے جنہوں نے اس علاقہ میں ابتدائی زمانہ میں اسلام کی تبلیغ کی ۔ اب تک اُن کی یادگار اس علاقہ میں پائی جاتی ہے اور ان کے مقام پر بہت سے پرانے