خطبات محمود (جلد 29) — Page 453
خطبات محمود 453 1948ء اہمیت کم نہیں ہو جاتی۔ تم جب سنتے ہو کہ آپ پر قرآن کریم فرشتوں کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے تو تم کہتے ہو سُبْحَانَ اللہ ! اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ قرآن کریم ملنے پر اس کی عظمت کم نہیں ہو جاتی تو پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن کریم ملنے سے تمہارے نزدیک اس کی عظمت کیوں گر جائے گی۔ تم اگر کہہ سکتے تو یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک فرشتے قرآن کریم لائے جو ادنی حیثیت رکھتے تھے اور ہم تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم لائے جو فرشتوں سے افضل تھے۔ اگر تم ایسا کہو تو تمہارے نزدیک قرآن کریم کی عظمت کتنی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن افسوس جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ ہستی جسے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ نہیں کہنا چاہیے تھا بوجہ اس کے کہ وہ بڑا ہے اور اعلیٰ شان رکھتا ہے وہ تو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا ہے لیکن وہ بندہ جسے یہ سلام سن کر شادی مرگ ہو جانا چاہیے تھا وہ جواب نہیں دیتا ۔ بِسْمِ اللہ کی ب سے لے کر سورۃ والناس تک قرآن کریم کا ہر ہر کلمہ، اس کا ہر ہر لفظ اور ہر ہر حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لیے سلام کا پیغام لے کر آیا ہے لیکن بندہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں ۔ کسی وقت کسی بندے نے خدا تعالیٰ کے سلام کا جواب دیا تھا اور نہایت شاندا ر دیا تھا مگر اب انسان اسے جواب دینے کے لیے تیار نہیں ۔ اب بھی مسلمان اگر خدا تعالیٰ کے سلام کے جواب کے لیے تیار ہو جائیں اور اس کی قدر کے لیے تیار ہو جا ئیں تو یقیناً ان کی دنیا بدل سکتی ہے ، ان کی ناکامی ، فلاح اور کامیابی میں بدل سکتی ہے "۔ الفضل 6 اپریل 1949ء) 1 : الانعام:74 2 : الفرقان : 31