خطبات محمود (جلد 29) — Page 421
1948ء 421 خطبات محمود گھر میں آتا ہے تو اپنی بیوی کی طرف بڑھتا ہے اور اُس سے محبت کا اظہار کرتا ہے، وہ اپنے عشق کو ظاہر کرنا چاہتا ہے، وہ اُس سے لپٹ کر پیار کرنا چاہتا ہے لیکن وہ عورت اسے دھکا دے کر کہتی ہے تمہیں ہے، وہ اس سے لپیٹ کر پیار کرنا چاہتا ہے جین وہ عورت اسے شرم نہیں آتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جہاد کے لیے باہر تشریف لے گئے ہیں اور تمہیں مجھ سے پیار کرنے کی سوجھ رہی ہے؟ اس صحابی نے مڑ کر دوسری دفعہ اپنی بیوی کو نہیں دیکھا۔ وہ باہر نکلا ، اس نے اپنے گھوڑے پر زین گسی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہو گیا۔ یہ کیا چیز تھی جس نے اُن کو اس قربانی پر آمادہ کیا ؟ یہ نمونہ صرف خدا تعالیٰ سے تعلق کی وجہ سے سے ظاہر ہوا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ظاہری حالت میں ویسے ہی تھے جیسے دوسرے ہیں، صحابہ کرام کے جذبات ویسے ہی تھے جیسے ہمارے ہیں ، اُن کی آنکھیں ویسی ہی تھیں جیسے ہماری ہیں، ان کا قد و قامت ویسا ہی تھا جیسے ہمارا ہے۔ بلکہ سینکڑوں ایسے ہوں گے جو قد و قامت میں اُن سے بڑھے ہوئے ہوں گے سینکڑوں ایسے ہوں گے جن کی نظریں اُن کی نظروں سے زیادہ تیز ہوں گی، کروڑوں ایسے ہوں گے جن کا لباس اُن سے اچھا ہوگا۔ پھر وہ کیا چیز تھی جس نے اُن کے اندر یہ روح پیدا کر دی تھی ؟ وہ چیز صرف خدا تعالیٰ سے اُن کا تعلق تھا۔ جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں وہ اُن کا ہو جاتا ہے۔ مخلوق اُن سے محبت کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔ جو شخص اب بھی ایسی ہی قربانی کرتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ سے ایسا ہی بدلہ پائے گا اور جو قربانی نہیں کرے گا اُس کی حالت کو درست کرنا کسی انسان کی طاقت میں نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اس کی اصلاح کرے اور اسے بدانجام سے بچائے۔ کھانسی کی تکلیف کی وجہ سے میں اپنے مضمون کو یہاں ہی چھوڑتا ہوں اور اسی پر خطبہ کو ختم کرتا ہوں "۔ الفضل 18 دسمبر 1948ء) 1 : بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبيله و معانقته 2 : زشت رو: بدشکل۔ بدصورت 3 : اسد الغابة جلد نمبر 2 صفحہ 230 مطبوعہ بیروت 1965ء