خطبات محمود (جلد 29) — Page 34
1948ء 34 خطبات محمود جیسے آجکل ہیں یا پچیس لاکھ روپیہ۔ اس لیے روپیہ کے حصول کی کوئی صورت نظر نہ آرہی تھی۔ میں ابھی اس معاملہ کے متعلق غور و فکر کر رہا تھا کہ وہی شخص جو ہماری زمینوں کے منتظم تھے آگئے ۔ میں نے اُن سے ذکر کیا کہ مجھے اتنے روپے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری جائیداد فروخت ہو کر ا تنا رو پیدل سکے گا ؟ وہ کہنے لگا آپ فکر نہ کیجیے ابھی انتظام ہو سکتا ہے اور تھوڑی سی زمین فروخت کرنے سے ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا مجھے تو اس کام میں مشکل یہ نظر آرہی ہے کہ قادیان میں سب غریب لوگ ہیں اتنار و پیر کون دے گا ؟ اس نے کہا اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ کام ہو جائے تو آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں خودا سے سرانجام دے لوں گا۔ پھر انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ کی زمین اگر فروخت کر دی جائے تو بعض دوستوں کو مکان بنانے کے لیے زمین کی ضرورت ہے۔ میں نے اجازت دی اور وہ اُٹھ کر چلے گئے ۔ ابھی میں دفتر میں بیٹھا ہوا مضمون جو اُن کے آنے سے پیشتر میں نے شروع کیا تھا لکھ رہا تھا کہ وہ واپس آگئے ۔ پندرہ سو روپیہ کی ڈھیری انہوں نے میرے سامنے لگا دی ۔ چنانچہ اُس روپیہ سے ہم نے قرآن کریم کے ترجمہ کی ابتدا کی اور پہلا پارہ شائع کرایا گیا۔ ان واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنی چھوٹی سی چیز سے خود میری زندگی شروع ہوئی ۔ اسی ضمن میں مجھے ایک اور واقعہ یاد آگیا ہے۔ وہ یہ کہ جب میں خلیفہ ہوا تو وہ لوگ جو پیغام مصلح سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے میری خلافت کے خلاف ٹریکٹ اور اشتہارات شائع کیے۔ اُس وقت ہمارے خزانہ میں کم و بیش اٹھارہ روپے تھے۔ گویا اتنا روپیہ بھی نہ تھا کہ ہم ان کے اشتہاروں اور ٹریکٹوں کا جواب شائع کر سکتے ۔ اُن دنوں میر ناصر نواب صاحب باہر کے دورہ سے آئے تھے اور دورہ میں اُنہوں نے دار الضعفاء کے لیے چندہ اکٹھا کیا تھا۔ میں ایک دن سیر کر کے باہر سے آرہا تھا انہوں نے پانچ سوکی ایک پوٹلی مجھے دی کہ اس وقت اشتہاروں کے لیے روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ اس سے خرچ چلائیں۔ جب روپیہ آجائے تو واپس کر دیں۔ یہ حالات بتا۔ کر دیں۔ یہ حالات بتاتے ہیں کہ ہم نے کتنی چھوٹی ابتدا سے کام شروع کیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے 1944ء میں میں نے چالیس ہزار چندہ دیا تھا۔ وہ کہاں سے آیا تھا ؟ وہ خدا تعالیٰ نے ہی دیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کا کام میرے سپرد کیا تو میں نے یہ نہ پوچھا تھا کہ میں کھاؤں گا کہاں سے؟ بلکہ پوچھنا تو در کنار میرے واہمہ میں بھی یہ سوال نہ تھا کیونکہ میں جانتا تھا اور مجھے یقین تھا کہ جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے وہی میرے لیے کھانے کا بھی انتظام کرے گا۔