خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 415

1948ء 415 خطبات محمود ور نہ یہ صاف بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرنے والا اور کوئی وجود نہیں ۔ جو محبت اس کو اپنے بندے سے ہے اور جو محبت اُسے ہونی چاہیے اس کے مقابلہ پر اور کسی تعلق کی خواہ وہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو کوئی نسبت نہیں ۔ صرف فرق یہ ہے کہ اسے دیکھنے والے تو دیکھتے ہیں مگر اکثر نہیں دیکھتے۔ بسا اوقات بچے اپنی ماں سے جدا ہو کر کہیں سیر کر رہے ہوتے ہیں، اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کسی شہر میں یا کسی باغ میں سیر کے لیے گئے ہوئے ہوتے ہیں یا کسی سینما میں جا کر کسی اچھے شو کا لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں ان کا دل خوشی سے لبریز ہوتا ہے اور ان کے جسم پر آسودگی کے آثار پائے جاتے ہیں ، ان کی آنکھیں چمک رہی ہوتی ہیں اور ان کا دماغ مختلف قسم کے افکار سے پُر ہوتا ہے۔ وہ شخص جو ان حالات سے گزر رہا ہوتا ہے سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کتنی اچھی ہے، اسے کتنی راحت اور آرام حاصل ہے لیکن بسا اوقات اس کی ماں جب کھانا کھاتی ہے تو اس سے کھانا نہیں کھایا جاتا۔ وہ اپنے منہ میں لقمہ ڈالتی ہے تو وہ اسے نگل نہیں سکتی۔ وہ اپنے آنسوؤں کو روکنا چاہتی ہے لیکن وہ نہیں ڑکتے ۔ وہ یہ خیال کر رہی ہوتی ہے کہ اس کا بچہ اس سے دور ہے، وہ کتنی تکلیفوں سے گزر رہا ہوگا ، اس کو کس نے وقت پر سلایا ہوگا ؟ اسے کس نے سردی کے موقع پر ڈھانپا ہوگا ؟ اس کے دل میں بیسیوں قسم کے وسو سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ یہ خیال کر کے تکلیف اٹھا رہی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں اس کے بچے کی لیا حالت ہے۔ اور بچے کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کوئی اس کے لیے غمگین ہورہا ہے۔ اسی طرح تم میں سے اکثر ایسے ہیں جن کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے لیے اور ان کے حالات کی درستی کے لیے اور انہیں اچھا بنانے کے لیے کتنا فکر مند ہے۔ وہ کس طرح ( اگر اس کے لیے یہ لفظ بولنا جائز ہو ) ان کے فائدہ کے لیے اور ان کی راحت کے لیے تڑپ رہا ہے۔ کیونکہ جس طرح وہ بچہ دور ہوتا ہے، اپنی ماں کی محبت کا اندازہ نہیں لگا سکتا اُسی طرح یہ بھی روحانی طور پر اللہ تعالیٰ کی اس محبت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جو اسے ان سے ہے۔ میں نے ماں کی مثال اس لیے دی ہے کہ تم میں سے اکثر ایسے ہوں گے جنہوں نے بچے کی جدائی کے وقت ماں کی حالت کو دیکھا ہو گا۔ تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو گھر میں ایک سے زیادہ ہیں۔ وہ کئی بہن بھائی ہیں۔ اور کئی دفعہ انہوں نے دیکھا ہو گا کہ ان کی ماں اپنے کسی بچے کی جدائی کے وقت اس کے متعلق کتنا فکر مند ہوتی رہی ہے۔ وہ اپنی جدائی کی حالت میں تو اپنی ماں کی حالت کو نہیں دیکھ سکتے لیکن اکثر ایسے ہوں گے جنہوں نے یہ دیکھا ہوگا کہ جب ان کا کوئی بھائی یا