خطبات محمود (جلد 29) — Page 380
1948ء 380 خطبات محمود اُس نے بڑا چندہ دیا ہے تو آپ لوگوں کو بیسیوں غرباء ایسے مل جائیں گے جو اپنی آمدن کا ہمیں پچھیں یا پچاس فیصدی چندہ دے دیتے ہیں ۔ وہ شخص تو کہتا ہے کہ ڈیڑھ سوما ہوار آمدن والا چندہ نہیں دے سکتا اور میں کہتا ہوں کہ زیادہ اخلاص والے اُنہی میں ہوتے ہیں جن کی آمد نیں ڈیڑھ سو سے کم ہوتی ہیں۔ دوسروں میں میں نے اتنا جوش نہیں دیکھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ امراء اخلاص والے نہیں ہوتے۔ امراء میں بھی اخلاص ہوتا ہے لیکن ان کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے ایسے مخلصوں کی تعداد کم ہے۔ میں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سلسلہ کے کاموں میں اتنی فراخ دلی اور فراخ حصہ لیتے ہیں کہ ان پر رشک آتا ہے۔ گزشتہ دنوں حیدر آباد میں بدامنی تھی۔ جو نہی ڈاک کھلی وہاں سے چندے آنے شروع ہو گئے ۔ پس مخلص لوگ امراء میں بھی ہوتے ہیں اور غرباء میں بھی ہوتے ہیں۔ مگر نسبت کے لحاظ سے غرباء میں یہ تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ غرباء قربانی میں زیادہ حصہ لیتے ہیں کہتے ہیں مایا کو مایا ملے کر کے لمبے ہاتھ ۔ جب روپیہ مل جاتا ہے تو انسان خواہش کرتا ہے کہ اور روپیہ مل جائے ۔ ہمارے ملک میں لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ننانوے کے پھیر میں آ گیا۔ یہ اس لیے مشہور ہے کہ امارت لانچ کو بڑھاتی ہے اور غربت حرص کو کم کرتی ہے۔ حوصلہ سے حصہ ۔ دو کہتے ہیں کوئی مالدار شخص تھا۔ اس کے گھر میں عموماً دال ہی پکتی تھی اور بے بھگار کے پکتی تھی۔ ان کے ہمسایہ میں ایک غریب سپاہی رہتا تھا اُس کے ہاں روزانہ گوشت پکتا تھا اور بگھار 8 والا سالن پکتا تھا۔ اس مالدار شخص کی بیوی نے کہا ہمارے مال کا کیا فائدہ، ہم غربت سے گزارہ کرتے ہیں اور یہ غریب کھاتے ہیں۔ اس شخص نے جواب دیا کہ میں تجھے اس کا جواب آٹھ دس دن کے بعد دوں گا۔ اس نے ایک تھیلی میں ننانوے روپے رکھے اور اس شخص (سپاہی) کی ڈیوڑھی میں چھوڑ کر باہر چلا گیا۔ سپاہی آیا اور تھیلی جھولی میں ڈال کر اندر چلا گیا اور اپنی بیوی کو حال بتایا کہ اس طرح آج ننانوے روپے ملے ہیں۔ پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ ننانوے روپے ہمارے پاس ہیں ۔ کل اگر ہم خشک روٹی پر گزارہ کر لیں اور سالن بے بھگار کے ہی پکا لیں اور ایک روپیہ بچا لیں تو یہ پورا سو ہو جائے گا۔ اُس کی بیوی نے کہا بہت اچھی بات ہے۔ دوسرے دن انہوں نے خشک روٹی کھائی اور اس طرح ایک روپیہ بچا لیا جس سے وہ پورا سو ہو گیا۔ اس نے پھر بیوی سے کہا ہمیں سوروپے بغیر محنت کے مل گئے ہیں اگر ہم کچھ اور تکلیف کریں تو یہ دو سو ہو جائیں۔ بیوی نے کہا اچھی بات ہے۔ انہوں نے گوشت کھانا بند کر دیا