خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 360

1948ء 360 خطبات محمود لاش نظر آ رہی ہے۔ پھر انہوں نے نواب صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا یہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال ہے۔ مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) کی عزت کا سوال نہیں ۔ مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام ) نے مقابلہ کیا ہے مقابلہ کیا ہے تو اسلام کی خاطر کیا ہے۔ مرزا صاحب ( علیہ ) مرزا صاحب ( علیہ الصلوة والسلام ) کی دشمنی میں تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھول گئے ہو۔ نواب صا۔ ب صاحب چونکہ آپ کے مرید تھے اس لیے وہ مرعوب ہو گئے ۔ اگر چہ آپ کو بیعت کی توفیق نہیں ملی تھی ۔ مگر انہیں نظر آ رہا تھا کہ آتھم روحانی طور پر مر چکا ہے۔ تم تو مومن ہو ۔ قربانیاں کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔ ہاں وہ اپنی شکل بدل سکتی ہیں ۔ لوہا جب مارا جاتا ہے تو وہ کشتہ بن جاتا ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوہا ضائع ہو گیا۔ بلکہ اس نے اپنی شکل بدل لی ہے اور پہلے سے زیادہ قیمتی ہو گیا ہے۔ اسی طرح اگر تمہاری قربانیاں ضائع بھی اگر ہو جائیں تو وہ کشتہ کی صورت اختیار کر لیں گی ۔ اور اگر وہ کشتہ کی صورت اختیار کر لیں گی تو کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ضائع ہو گئی ہیں۔ سونے کی قیمت پہلے کیا تھی ؟ یہی ہیں پچیس روپے فی تو لہ تھی مگر ان دنوں میں بھی سونے کا کشتہ سوا سو روپیہ فی تولہ بکتا تھا۔ کون کہتا تھا کہ سونا ضائع ہو گیا ہے بلکہ اس کی قیمت پہلے سے دگنی تگنی ہو جاتی تھی۔ اسی طرح ظاہر میں تو انسان کو نقصان نظر تا ہے لیکن اگر روحانی آنکھ سے دیکھا جائے تو وہ فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے ۔ درحقیقت زندہ وہی ہے جو روحانی طور پر زندہ ہے اور بینا وہی ہے جو روحانی طور پر بینا ہے"۔ 1 : تذکرہ صفحہ 50 ایڈیشن چہارم )الفضل 30 جنوری 1949ء 2 : ترک: ہندوستان کے پہلے مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر کی تصنیف ” تزک بابری جس میں اس نے ترکی زبان میں اپنے بچپن سے لے کر آخری دنوں تک کے حالات درج کئے ہیں (اسلامی انسائیکلو پیڈیاز پر لفظ تزک۔ لاہور 2000 ء ) 70 : 3 : النحل 4 : مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 266،265۔ 5 : المجادلة: 22 6 : تذکرہ صفحہ 307 ایڈیشن چہارم