خطبات محمود (جلد 29) — Page 312
1948ء 312 خطبات محمود ہے۔ ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ وصیت کر کے یہ ثابت کر دے کہ وہ ان پیشگوئیوں پر پورا یقین رکھتا ہے جواحمدیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ظاہر کیں۔ میرے خطبہ پر جماعت میں ایک حرکت پیدا ہوئی تھی اور پیدا تو جماعت کے سینکڑوں افراد نے چندے بڑھا دیئے تھے لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ حرکت کمزور ہوتی جاتی تو ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ تعداد بڑھتی چلی جاتی یہاں تک کہ : یہاں تک کہ جماعت کا ہر فرد ساڑھے سولہ سے تینتیس فیصدی تک کے معیار پر آجاتا یا وہ کم از کم دس فیصدی چندہ دیتا، چاہیے تو یہ تھا کہ جماعت کے ہزاروں ہزار افراد وصیتیں کر کے اپنے اخلاص اور ایمان کا ثبوت بہم پہنچاتے مگر دفتر وصیت کی طرف سے مجھے آج اطلاع ملی ہے کہ اس عرصہ میں صرف ایک سو وصیت ہوئی ہے اور یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ لاکھوں کی جماعت میں سے صرف ایک سو افراد نے میری اس تحریک کی طرف توجہ دی ہے ( اس کے بعد مجھے رقعہ ملا کہ ایک سو نہیں چار سو سے اوپر ٹی وصیت ہوئی ہے مگر یہ بھی کافی نہیں ) ۔ اس تحریک سے پہلے پانچ چھ ہزار کے قریب موصی تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ میری تحریک کے بعد وصیت کی پہلی تعداد پر 1/50 حصہ کی زیادتی ہوئی اور یہ کوئی خوش کن بات نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذمہ داری کا بہت بڑا حصہ کا رکنوں پر ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے کا رکن اُس بیداری سے کام نہیں لے رہے جس بیداری سے انہیں کام لینا چاہیے تھا۔ صدر انجمن احمد یہ یہ بجھتی ہے کہ لوکل انجمنیں قائم ہیں اور وہ یہ کام کر رہی ہیں۔ لوکل انجمنیں یہ بجھتی ہیں کہ یہ کام صدر انجمن احمد یہ خود کرے گی۔ یا پھر صدرانجمن احمد یہ یہ قیاس کر لیتی ہے کہ لوکل انجمنیں یہ کام کر لیتی ہیں۔ حالانکہ جماعت کے ہر فرد کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہے۔ جماعت کے ہر چھوٹے بڑے اور ہر امیر و غریب کو اس کا احساس ہونا چاہیے۔ جب تک جماعت کے عورتوں ، مردوں ، بچوں ، نو جوانوں اور بوڑھوں میں اس ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں ہو جاتا اُس وقت تک ہماری جماعت اعلی درجہ کی بیدار جماعت نہیں کہلا سکتی ۔ جوں کی چال چلنا بیداری نہیں کہلا سکتا۔ ہر قوم کچھ نہ کچھ ترقی کی طرف بڑھتی ہے۔ بہت ہی بد بخت کوئی ہی بار ۔ ہی پیر قوم ہوگی جو ترقی کی منزل طے نہیں کر رہی ۔ آج سے چالیس سال پہلے چوڑھوں کی جو حالت تھی ہم میں سے ہر ایک یہ محسوس کرے گا کہ اب انہوں نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور وہ اپنی پہلی حالت سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔ میرے ہوش کی یہ بات ہے کہ ایک خاکروبہ چھ آنے ماہوار لیتی تھی لیکن ہمارے دیکھتے دیکھتے چھ آنے سے ایک روپیہ ماہوار فی گھر ہو گیا۔ ہاں اگر کوئی غریب آدمی ہو اور اُس