خطبات محمود (جلد 29) — Page 22
1948ء 22 خطبات محمود انسان بھی اسی طرح بویا جاتا اور کاٹا جاتا ہے۔ ایک زمانہ تو انسان پر ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے اندر نسل پیدا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ مگر پھر ایک زمانہ اُس پر ایسا بھی آتا ہے کہ یہ قابلیت اُس کے اندر سے مفقود ہو جاتی ہے اور اُس وقت وہ اپنی پہلی پیدا شدہ نسل سے ہی فائدہ اُٹھا رہا ہوتا ہے یا نقصانات رہا بوئی برداشت کر رہا ہوتا ہے۔ یعنی ایک نسل جو اُس نے بوئی تھی اُس کی نیک یا بد تربیت کرنے کی وجہ سے اُسے اجر یا سزا مل رہی ہوتی ہے۔ اگر اُس نے اپنی نسل کی تربیت اچھی کی ہوئی ہو تو اُسے نیک پھل ملتا ہے اور اگر تربیت اچھی نہ کی ہوئی ہو تو وہ اُس کا خمیازہ بھگتنا ہے۔ اسی طرح قوموں کی بھی حالت ہوتی ہے۔ اُن کے لیے بھی ایک زمانہ بونے کا اور ایک زمانہ کاٹنے کا مقدر ہوتا ہے۔ قوموں کے بونے کا زمانہ تو وہ ہوتا ہے جب قومیں اپنی بقا کے لیے قربانیاں کرتی ہیں اور کاٹنے کا زمانہ وہ ہوتا ہے جب وہ بقا اپنی قربانیوں سے فائدہ اُٹھا رہی ہوتی ہیں۔ انبیاء کی جماعتوں کا ابتدائی زمانہ بونے کا ہوتا ہے اور آخری زمانہ کاٹنے کا ہوتا ہے یعنی انبیاء کی جماعتوں کا ابتدائی زمانہ جماعت کے افراد سے انفرادی اور اجتماعی قربانیوں کا متقاضی ہوتا ہے مگر اس قربانیوں کے زمانہ میں بھی الگ الگ دور ہوتے ہیں۔ کوئی دور تو ایسا آجاتا ہے کہ وہ قربانیوں کی انتہا چاہتا ہے اور کوئی دور ایسا آجاتا ہے کہ قربانیوں کی گو ضرورت تو ہوتی ہے مگر کم ۔ گویا یہ قربانیوں کے زمانے لہروں کی طرح آتے ہیں۔ کبھی یہ لہریں اونچی اُٹھنے لگتی ہیں اور کبھی نیچی ہو جاتی ہیں۔ ہماری جماعت کے لیے بھی یہ زمانہ دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور بہت زیادہ محنت اور توجہ کے ساتھ ہونے کا زمانہ ہے۔ اس لیے یہ زمانہ ہم سے زیادہ سے زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ کیا اس لحاظ سے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب ہونے کی وجہ سے ابتدائی زمانہ میں سے گزر رہے ہیں اور کیا اس لحاظ سے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس ابتدائی زمانہ کو لمبا کرتا چلا جا رہا ہے۔ زمانہ کولمبا چلا جارہا مصلح موعود کی پیشگوئی کے معنی ہی یہ تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کو لمبا کر دیا جائے۔ گو اس زمانہ کے لمبا ہونے کی وجہ سے ہمیں بہت زیادہ قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہو گی ۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ثواب بھی ہمیشہ اُنہی زمانوں کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے ابتدائی زمانوں میں قربانیاں کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ زمانہ بالکل اُسی طرح لمبا کر دیا ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام