خطبات محمود (جلد 29) — Page 241
1948ء 241 خطبات محمود پرسوں رات جو واقعہ ہوا ہے اُس کا یہ رد عمل بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ ایک جان ضائع ہوگئی ہے اس لیے ہمیں احمدیت کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ بے ایمانی کا رد عمل ہوگا۔ اس کا یہ بھی رد عمل ہو سکتا ہے کہ اب کمزوری اور بزدلی بزدلی دکھائی جائے ورنہ ہم بھی مارے جائیں گے۔ یہ غیر اسلامی رد عمل ہوگا ۔ پھر ایک یہ بھی رد عمل ہو سکتا ہے کہ ہم بھی دوسروں کو مارنے لگ جائیں ۔ مگر یہ بھی غیر اسلامی رد عمل ہوگا۔ کیونکہ ہوسکتا مارنے سے دل درست نہیں ہوتے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تلوار اٹھائی تھی تو کفار کے انتہائی ظلم کے بعد اٹھائی تھی اور پھر ان ظالموں کو ایک لمبے عرصہ تک برداشت کرنے کے بعد اٹھائی تھی۔ پہلے ہی دن آپ نے ایسا نہیں کیا کہ اگر کسی کافر نے کسی مسلمان کو مارا ہو تو آپ نے بھی اُسے مارنا شروع کر دیا ہو۔ بلکہ جب انتہائی مظالم کی وجہ سے آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور پھر بھی کفار نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو اجازت دی کہ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں تلوار اٹھا سکتے ہیں ۔ 2- پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کی کی اجازت سے اور اُس وقت اُٹھائی جب آپ نے دیکھ لیا کہ دشمن اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتا۔ پھر ایک رد عمل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم یہ جگہ چھوڑ کر بھاگ جائیں جیسے بزدل بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر اسلام اس کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ میں جماعت کے دوستوں کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ فعل صرف اس لیے ہوا ہے کہ ان لوگوں میں ایمان نہیں تھا، انہیں صداقت کا کوئی علم نہیں تھا۔ اُنہوں نے یہ کام بیوقوفی سے کیا اور اس میں صرف آپ لوگوں کا ہی قصور ہے۔ اگر آپ نے انہیں احمدیت سے واقف کیا ہوتا تو وہ اتنے جاہل کیوں بنتے ؟ پس پرسوں رات جو واقعہ ہوا ہے اس کا ایک رد عمل یہ بھی ہے کہ آپ لوگ تبلیغ کو زیادہ کر دیں۔ غرض اس کے کئی کے کئی رد ردعمل عمل ہوسکتے ہو سکتے ہیں۔ ہیں۔ ایک یہ یہ کہ ہم ڈر جائیں اور خاموش ہو جائیں یہ منافقت اور بے دینی کا رد عمل ہوگا۔ یا ہم لڑنے لگ جائیں یہ اسلام سے ناواقفیت کا رد عمل ہوگا۔ یا ہم بھاگ جائیں یہ کمزوروں اور بزدلوں کا رد عمل ہوگا ۔ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف اسی وجہ سے ہوا ہے کہ وہ لوگ احمدیت سے ناواقف تھے۔ یہ حملہ ہمارے اپنے فرض کی ادائیگی میں کمزوری دکھانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پس ہمیں اب پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ان لوگوں کو احمدیت کی تعلیم سے روشناس