خطبات محمود (جلد 29) — Page 210
1948ء 210 خطبات محمود شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ اس لیے تم پورے روزے رکھنے کی کوشش کروتا اس مبارک مہینہ سے پوری طرح فائدہ حاصل کر سکو ۔ اکثر دفعہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ بہانے بنا کر روزے چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہماری جماعت میں روزے کی عبادت کم ہے ۔ قادیان میں تو اب یہ عبادت شروع ہوگئی ہے اور اس کی طرف خاص توجہ دی جاتی ہے۔ میں نے قادیان والوں سے کہا تھا کہ اگر تم قادیان میں رہتے ہو اور دین کی خاطر رہتے ہو تو تمہیں اس عبادت کی طرف خاص توجہ دینی چاہتے ۔ کم از کم ہفتہ میں دو روزے تو رکھا کرو۔ ہمارے ایک دوست حافظ نورالہی صاحب مرحوم تھے۔ اُنہوں نے تو وہاں ہر روز روزہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔ چونکہ بڑی عمر کے آدمی تھے مسلسل روزے رکھنے کی وجہ سے اُن کے دماغ میں نقص آ گیا اور وہ وہیں فوت ہو گئے ۔ بہر حال ہماری جماعت میں روزے کی عبادت کی کمی ہے اور میں نے جہاں تک دوستوں سے گفتگو کی ہے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ پچھلے چھوٹے ہوئے روزے بہت ہی کم رکھے جاتے ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جتنی توفیق تھی اُتنے روزے رکھ لیے۔ اب اگر کوئی روزہ رہ گیا ہے تو کیا ہوا ۔ حالانکہ یہ ایک قرض ہوتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کوئی دائم المریض ہو یا اتنا کمزور ہو کہ وہ روزہ نہ رکھ سکے۔ لیکن اگر وہ دائم المریض نہیں اور نہ اتنا کمزور ہے کہ وہ اس عبادت سے مستثنی ہو سکے اور پھر اس سے کچھ روزے چھٹ گئے ہوں اور اس کے بعد اُس پر جوانی کے دن باقی رہے ہوں اور روزے رکھنے کی طاقت بھی باقی رہی ہو اور پھر روزے اُس نے پورے نہ کیسے ہوں تو اُس کے لیے بخشش کی کوئی صورت نہیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ پچھلے کیے ہوئے گناہ کو اگلی عمر دُور کر دے ۔ بڑھا پا اُس گناہ کو تو دور کر سکتا ہے جس سے پہلے بڑھاپا ہو لیکن اُس گناہ کو دور نہیں کر سکتا جو بڑھاپا آنے سے پہلے کیا گیا ہو اور پھر اُس پر کئی سال جوانی کے گزر چکے ہوں اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت باقی رہی ہو۔ ہاں اب وہ کمزور ہو گیا ہو یا بوڑھا ۔ ھا ہو گیا ہو کہ وہ روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ایسے شخص کے گناہ کے گناہ پھر تو بہ، کفارہ اور خدا کے سامنے ندامت کے اظہار سے ہی معاف ہوں تو ہوں یا شاید مختلف نیکیوں کی زیادتی اُسے معاف کرادے لیکن بظاہر اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔ پس روزوں کے ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔