خطبات محمود (جلد 29) — Page 184
1948ء 184 خطبات محمود یہ غرض جماعت کے ایمان کے متعلق جو اظہار میں نے پچھلے خطبہ میں کیا تھا اس ہفتہ نے اُس کو صحیح ثات کر دیا ہے ۔ میں نے کہا تھا کہ جماعت میں ایمان تو ہے مگر ضرورت اُس کو اُبھارنے کی ہے اور ضرورت تدریجی رنگ میں ترقی کرنے کی ہے ۔ میں پچھلا خطبہ دے کر گھر گیا تو کئی رقعے مجھے اُسی وقت پہنچ گئے ۔ مردوں کے بھی اور عورتوں کے بھی ۔ جن میں یا تو نئی وصیتیں کرنے کی اطلاع تھی یا زائد چندہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ رو متواتر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کام کرنے والے اگر اچھی طرح کام کریں تو چھ ماہ یا سال کے اندر اندر ساری جماعت اس معیار پر آجائے گی ۔ سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سکیم کامیاب ہو گئی ہے اور آئندہ اور بھی کامیاب ہوگی ۔ اب سوال بظاہر حالات صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ کونسی جماعت اس تحریک میں آگے بڑھتی ہے ۔ جب ہم قادیان میں ہوتے تھے تو باوجود اس کے کہ قادیان کی جماعت زیادہ تر غرباء پر مشتمل تھی پھر بھی ہر تحریک پر وہاں کے دوست جلد سے جلد لبیک کہتے اور بڑی سر گرمی اور جوش سے اُس میں حصہ لیتے ۔ جب بھی کوئی تحریک ہوتی جمعہ کے بعد سے لے کر شام تک قادیان کی جماعت کی طرف سے اتنی لبیک آجاتی کہ حیرت آتی تھی ۔ اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ ہم لاہور میں ہیں زیادہ تر قادیان کے مجاہدین کی طرف سے ہی وعدے آتے ہیں ۔ حالانکہ سُننے میں قادیان والے اور باہر والے دونوں برابر ہوتے ہیں ۔ بہر حال ساری جماعتوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کے فضل سے قبولیت کا جامہ پہن چکی ہے ۔ اب جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کچھ دیر اور انتظار کر لیں وہ صرف اپنے ثواب میں کمی کر رہے ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کی تقدیر ظاہر ہو چکی ہے ۔ اب اس تقدیر سے جلد یا بدیر فائدہ اُٹھانے کا سوال ہے ۔ پس میں تمام جماعتوں کو (کیونکہ میں نہیں جانتا کس کے لیے آگے بڑھنا مقدر ہے ) تنبیہہ کر دیتا ہوں کہ اس تحریک کے متعلق ایک رو چل چکی ہے۔ اب ان کے ثواب کی زیادتی یا کمی کا انحصار اس تحریک میں جلد یا دیر سے حصہ لینے پر ہے۔ ایک ہی رقم ہے وہ جلدی حصہ لے کر زیادہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور اس رقم سے سُستی کر کے وہ کم ثواب لے سکتے ہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ رقابت اور ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کا وہ جذبہ