خطبات محمود (جلد 29) — Page 10
1948ء 10 خطبات محمود سب سے پہلا درجہ جس سے اُتر کر اور حقیر اور کوئی رنگ نہیں یہ ہے کہ انسان بالالتزام پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے۔ جو مسلمان پانچوں وقت کی نمازیں پڑھتا ہے اور کبھی ناغہ نہیں کرتا وہ ایمان کا سب سے چھوٹا درجہ حاصل کرتا ہے۔ دوسرا درجہ نماز کا یہ ہے کہ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کی جائیں ۔ جب کوئی مسلمان پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرتا ہے تو وہ ایمان کی دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔ پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ نماز باجماعت ادا کی جائے ۔ باجماعت نماز کی ادائیگی سے انسان ایمان کی تیسری سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے۔ پھر چوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان نماز کے مطالب کو سمجھ کر نماز ادا کرے۔ جو شخص ترجمہ نہیں جانتا وہ ترجمہ سیکھ کر نماز پڑھے اور جو شخص ترجمہ جانتا ہو وہ ٹھہر ٹھہر کر نماز کو ادا کرے۔ یہاں تک کہ وہ سمجھ لے کہ میں نے نماز کو كَمَا حَقُّه ادا کیا ہے۔ پھر پانچواں درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نماز میں پوری محویت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں اُسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے۔ یہاں تک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کرلے۔ یا تو یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اس مؤخر الذکر حالت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی اندھا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہو۔ اپنی ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلی ہوتی ہے جو بینا ہو اور اپنی ماں کو دیکھ رہا ہو۔ مگر ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلی ہوتی ہے جو نا بینا ہو۔ اس خیال سے کہ اُس کی ماں اُسے دیکھ رہی ہے ۔ گو وہ نابینا ہوتا ہے اور اپنی ماں کو نہیں دیکھ سکتا مگر اُس کا دل مطمئن اور تسلی یافتہ ہوتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اُسے یہ یقین ہوتا ہے کہ اُس کی ماں اُسے دیکھ رہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے وقت بندے کو ایک مقام ضرور حاصل ہونا چاہیے۔ یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو۔ یا یہ کہ اُس کا دل اس یقین سے لبریز ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے ۔ 2 یہ ایمان کا پانچوں مقام ہے اور اس مقام پر بندے کے فرائض پورے ہو جاتے ہیں ۔ مگر جس بام رفعت پر اسے پہنچنا چاہیے اُس پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے بعد چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔ یہ نوافل پڑھنے والا گو یا خدا تعالیٰ