خطبات محمود (جلد 29) — Page 166
1948ء 166 (17) خطبات محمود آج کم سے کم مظاہرہ ایمان یہ ہے کہ جماعت کا ہر فرد وصیت کر دے چندے کی حد 25 فیصدی کی بجائے ساڑھے سولہ فیصدی اور 50 فیصدی کی بجائے 33 فیصدی ہوگی (فرمودہ 28 مئی 1948 ء رتن باغ لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: "ہماری جماعت باقی مسلمانوں کے ساتھ چونکہ ایک بڑے ابتلاء میں سے گزری ہے اس لیے میرا یہ خیال تھا کہ بوجہ ایمان کی زیادتی کے بوجہ نشانات اور معجزات دیکھنے کے، بوجہ آسمانی تائیدات دیکھنے کے اور بوجہ مرنے کے بعد کی زندگی پر کامل ایمان اور پورا یقین ہونے کے ہماری اور جماعت قربانی اور ایثار کے اس درجہ پر پہنچ چکی ہوگی کہ وہ یکدم گو دکر ایک بڑی منزل کو تھوڑے سے وقت میں طے کرے۔ لیکن تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے متعلق تھی کہ وہ بہت آہستہ آہستہ ترقی کرے گی وہ پیشگوئی ابھی تک جاری ہے اور ابھی جماعت میں وہ طاقت اور قوت پیدا نہیں ہوئی کہ وہ بڑی قربانیوں کے لیے یکدم