خطبات محمود (جلد 29) — Page 140
1948ء 140 خطبات محمود چھوڑی اور لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لائل پور، ملتان اور راولپنڈی میں ہندوؤں نے چھوڑی اُس کا : اندازہ کرنا مشکل ہے۔ ادھر والے بھی اربوں کی جائیداد چھوڑ کر اُدھر گئے اور اُدھر والے بھی اربوں کی جائیداد چھوڑ کر ادھر آئے مگر باوجود اس کے نہ مقدمہ بازی ہے اور نہ ہو سکتی ہے اور نہ اتنا شور ہے جتنا چندایکڑ زمین کے کھوئے جانے پر بلکہ ایک زمین کی ایک لائن پر پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ آخر ایسا کیوں جایا آخرایسا ہوا ؟ اسی لیے کہ مرگ انبوہ جشنی دارد جب سب لوگ مرجائیں گے تو یہ موتوں کی کثرت بھی ایک جشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مرنے والے کو روتا ہے تو لوگ اُسے کہتے ہیں تم کیوں روتے ہو؟ کیا فلاں نہیں مر گیا ؟ یا فلاں کے رشتہ دار نہیں مر گئے ؟ یا جب کوئی شخص کہتا ہے کہ میرا مکان جاتا رہا اور وہ غم میں رونا شروع کرتا ہے تو لوگ اُسے کہتے ہیں شرم کر کیا ہمارا مکان نہیں جاتا رہا ؟ یہ قدرت کا ایک قانون ہے کہ سب کو ایک وقت میں رونا نہیں آتا۔ رونا مختلف اوقات اور مختلف حالات میں آتا ہے۔ اگر کسی کا کوئی عزیز 11 بج کر ایک منٹ پر فوت ہوا ہو تو اُسے 11 بج کر ایک منٹ پر رونا آئے گا ۔ مگر کوئی ایسا ہو گا جس کے ہاں موت 11 بج کر دس منٹ پر ہوئی ہے اُسے اُس وقت رونا آئے گا کیونکہ رونے کے بھی محرکات ہوا کرتے ہیں۔ فرض کرو کسی کا بچہ 11 بج کر ایک منٹ پر فوت ہوا ہے دوسرے دن اُس کی نظر گھڑی پر پڑی اور اُس نے دیکھا کہ 11 بج کر ایک منٹ ہو گیا ہے تو وہ رونے لگ جائے گا کیونکہ اُس وقت کو دیکھ کر اسے اپنا بچہ یاد آ جائے گا۔ لیکن کوئی دوسرا شخص جس کا لڑ کا ٹھیک بارہ بجے گھر آیا کرتا تھا وہ 11 بج کر ایک منٹ پر نہیں روئے گا بلکہ جب بارہ بجیں گے اُسے رونا آجائے گا کیونکہ وہ کہے گا یہ وہ وقت ہے جب میرا بیٹا گھر آیا کرتا تھا۔ اسی طرح اگر کوئی اور ایسا واقعہ ہوا ہو جو جذبات کو برانگیختہ کرنے والا ہو تو وہ واقعہ رونے کا محرک بن جائے گا۔ مثلاً کسی کا لڑکا بیمار تھا اُس نے مرنے سے چار پانچ دن کالڑکا پہلے پانی مانگا۔ طبیب نے کہا تھا کہ بچے کو پانی نہ پلایا جائے۔ اگر پانی دیا گیا تو مرض بڑھ جائے گا۔ چنانچہ اُسے پانی نہ دیا گیا اور وہ اسی حالت میں فوت ہو گیا۔ فرض کرو وہ دن کے چار بجے فوت ہوا تھا اب اگر تو وہ زندہ رہ جاتا تو لوگ کہتے طبیب بڑا عقلمند ہے مگر چونکہ وہ مر گیا اس لیے طبیب احمق بن گیا۔ جو نہی چار بجیں گے اُسے اپنے لڑکے کا مرنا اور طبیب کا یہ کہنا کہ بچے کو پانی نہ پلایا جائے یاد آ جائے گا۔