خطبات محمود (جلد 29) — Page 121
1948ء 121 خطبات محمود پس ایک طرف علم سیکھنے کی ہماری جماعت کو زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے اور دوسری طرف اپنی قوت عملیہ کو مضبوط کرنا چاہیے۔ مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت میں قوت عمل یہ بہت کم پائی جاتی ہے حالانکہ ت عملیہ بہت کم پانی جاتی ہے۔ جب تک قوت عملیہ نہ ہوکوئی قوم اپنی کوششوں کے اعلیٰ نتائج نہیں دیکھ سکتی۔ اسی طرح نو جوانوں میں تدبر اور فکر قوم اپنی کوشوں کے علی تاج نہیں دیکھ سکی۔ اس طرح خوبم کی عادت ہونی چاہیے۔ جوانی جوش کا تقاضا کرتی ہے اور بڑھاپا حکمت اور تدبر کا متقاضی ہوتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عقل اور تدبر سے جو بات ہوتی ہے وہی کامیابی کا موجب ہوتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں آجکل کے نوجوان سیاسیات اور دوسرے امور میں فوراً حصہ لینے لگ جاتے ہیں حالانکہ ان کی سمجھ ابھی پختہ نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے خیالات کی رو غلط طریق پر چل پڑتی ہے اور ملک کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ پس یہ تین چیزیں اپنے اندر پیدا کرو۔ ایک ہی وقت میں تمہارے جوان بچے بھی ہوں اور بوڑھے بھی۔ اور تمہارے بوڑھے بچے بھی ہوں اور جوان بھی ۔ اور اگر ممکن ہو سکے تو تمہارے بچے بھی ایک ہی وقت میں جوان بھی ہوں اور بوڑھے بھی۔ جب یہ تینوں چیزیں تمہارے اندر پیدا ہو جائیں گی تو تمہاری زندگی کے سارے پہلو محفوظ ہو جائیں گے۔ دوسرے اس کا یہ بھی نتیجہ ہو گا کہ کوئی دو گروہ ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ یہ جو لوگ کہا کرتے ہیں کہ جوانوں کے لیے جگہ خالی کرو یہ عام سیاسی دنیا کے خیالات ہیں ۔ ہمارے اندر یہ خیالات پیدا نہیں ہونے چاہیں ۔ تم اپنے اندر ایسی ا خوبیاں پیدا کرو کہ ہماری قوم میں جس کو دنیا جوان کہتی ہو وہ بچہ اور بوڑھا بھی ہو اور جس کو دنیا بوڑھا کہتی ہو وہ جوان اور بچہ بھی ہو۔ اور جس کو دنیا بچہ کہتی ہو وہ جوان اور بوڑھا بھی ہو۔ جب تمہارا ہر جوان بوڑھا ہوگا اور تمہارا ہر بوڑھا جوان ہوگا اور ہر بچہ جوان اور بوڑھا ہوگا تو جماعت کی زندگی میں ایسی یکجہتی پیدا ہو جائے گی جس سے افتراق اور انشقاق کی کوئی صورت بھی باقی نہیں رہے گی"۔ )الفضل 23 جون 1948ء 115 : : 1 261 :2 : البقرة 3 : موسوعة امثال العرب جزء رابع زیر حرف ص“ میں ” الصبي صبيا ولَقِيَ النبی کے الفاظ ہیں۔