خطبات محمود (جلد 29) — Page 113
1948ء 113 (12) خطبات محمود علم سیکھنے کی تڑپ ، قوت عملیہ اور تدبر وفکر کی عادت مومن کا خاص شیوہ ہے فرموده 2 را پریل 1948ء بمقام رتن باغ لاہور ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " انسانی زندگی کے ہر حصہ کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں اور ہر حصہ میں کچھ کمزوریاں اور کچھ اچھی باتیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بچپن کی زندگی ہے۔ جہاں بچپن کی زندگی میں جسمانی کمزوری پائی جاتی ہے، نسلی کمزوری پائی جاتی ہے، سنجیدگی کی کمی پائی جاتی ہے وہاں بچپن میں سیکھنے کی خواہش انتہا درجہ کی موجود ہوتی ہے۔ شاید انسانی زندگی کے مختلف ادوار میں سے کسی ایک دور میں بھی سیکھنے کی خواہش اتنی شدید نہیں ہوتی جتنی بچپن کی کی زندگی میں ہوتی ہے۔ ہے۔ وہ وہ بیسیوں باتیں جن کو سن کر بڑے آدمیوں کے دلوں میں کبھی یہ خیال بھی نہیں گزرتا کہ وہ کیوں ہیں؟ کس لیے ہیں؟ ان کی کیا تشریح ہے؟ اور ان کا کیا مقصد ہے؟ بچہ اُن باتوں کو سن کر یا د یکھ کر فوراً جرح شروع کر دیتا ہے۔ ہر ابتدائی تغیر پر ، ہر آسمانی تبدیلی پر، زمینی آواز یا زمینی نظارے کا جو فرق ہوتا ہے اس پر بچہ فوراً سوال کر دیتا ہے کہ اماں! یہ کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟ یہ کس لیے ہے؟ حقیقتا اگر مائیں تعلیم یافتہ ہوں تو بچے سکول میں جانے سے پہلے ہی