خطبات محمود (جلد 29) — Page 105
1948ء 105 خطبات محمود سیاسیات کے متعلق اس میں کوئی تعلیم ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ وہ صرف رسم و رواج کا مجموعہ ہے پھر بھی وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں ۔ کہیں کوئی قمیص پر رنگ پڑا ہوا ہوتا ہے کہیں کرتے ہیں۔ لوگ دیکھتےہیں تو بنتے ہیں کوئی پر نہ پڑا ہوا ہوتا ۔ پاجامے پر رنگ پڑا ہوا ہوتا ہے، کہیں بوٹ پر رنگ پڑا ہوا ہوتا ہے۔ مگر وہ ذرا بھی پروا نہیں کرتے اور اپنے مذہب کے حکم پر عمل کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ لوگ تو اپنی لغویات پر جس میں کوئی بھی معقولیت نہیں ، جس میں کوئی بھی نفع نہیں عمل کرتے چلے جاتے ہیں اور ہم لوگ اُس حکم پر عمل کرنے کے تیار نہیں ہوتے جس میں نفع ہی نفع ہے اور فائدہ ہی فائدہ ہے۔ داڑھی میں اگر اور نہیں تو کم از کم قومی شعار تو ہے۔ مگر یہ قومی شعار بھی اختیار نہیں کیا جاتا اور اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہوئے اس کی بدنامی کا باعث بنا جاتا ہے۔ انہی چیزوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ ذلت کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ اب تو انگریز چلا گیا مگر جب وہ تھا اُس وقت بھی فوج میں وہ سکھ کو داڑھی رکھنے دیتا تھا مگر مسلمان کو نہیں ۔ اور اس کی وجہ یہی تھی کہ سکھوں میں سے ہر ایک داڑھی رکھتا تھا مگر مسلمانوں میں ہر ایک داڑھی نہیں رکھتا تھا۔ اس وجہ سے اگر کوئی مسلمان فوج میں داڑھی رکھتا تو اُسے سزا دی جاتی تھی ۔ گویا ایک شخص جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا چاہتا تھا اُسے مسلمان اپنے بدعمل کی وجہ سے انگریز کے ہاتھوں سے سزا دلواتے تھے کہ کیوں اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اور کیوں ہماری طرح اُس نے داڑھی منڈوا کر نہیں رکھی ۔ یہ کتنا بڑا فرق ہے جو سکھوں اور مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ میں اس قوم کو وحشی بھی کہتا ہوں، ہمیں اس قوم کو جو شیلا بھی کہتا ہوں مگر میں کہتا ہوں ان میں ایک چیز ایسی ہے جو مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی ۔ اور وہ یہ کہ انگریز آئے اور چلے بھی گئے مگر سکھ اپنے گوروؤں کی رکھوائی ہوئی داڑھی کو انگریز کے ہاتھوں سے سلامت لے گئے ۔ سکھ گوروؤں کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا ہے۔ مگر ایک سکھ جس طرح فخر سے اپنی گردن علیہ اونچی کر سکتا ہے مسلمان اپنی گردن اونچی نہیں کر سکتا ۔ انگریز آئے تو مسلمان بھی اُسی طرح داڑھی رکھتے تھے جس طرح سکھ داڑھی رکھتے تھے مگر جب سو سال کے بعد انگریز چلے گئے تو سکھ اپنے گوروؤں کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی داڑھیوں کو بچا کر لے گئے مگر مسلمان اپنی داڑھیوں کو نہ بچا سکے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ ہزاروں اسلامی شعار ایسے ہیں جو ایک ایک کر کے مسلمانوں نے چھوڑ رکھے ہیں۔