خطبات محمود (جلد 29) — Page 92
1948ء 92 خطبات محمود ہمیں واپس ملے یا جنگ سے دونوں معاملات میں ظاہری تدابیر کام نہیں دے سکتیں ۔ صرف خدا ہی ہے جو ہماری مدد کر سکتا اور ہمارے لیے غیب سے نصرت اور کامیابی کے سامان پیدا فرما سکتا ہے ۔ اگر دلائل کو لو تو دلائل کا اثر بھی خدا تعالیٰ ہی پیدا کر سکتا ہے ورنہ جو نشہ حکومت میں سرشار ہوا اور جسے اپنی طاقت کا گھمنڈ ہو اُس کے سامنے کتنے بھی دلائل پیش کیے جائیں وہ سب کو ٹھکرا دیتا ہے اور کہتا ہے ہم ان باتوں کو نہیں مانتے ۔ اور اگر طاقت کو لو تو اول تو مادی طاقت ہمارے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہو بھی اور فرض کرو ہماری جماعت موجودہ تعداد سے پچاس یا سو گئے بھی بڑھ جاتی ہے اور پانچ دس کروڑ تک پہنچ جاتی ہے تب بھی گورنمنٹ ہمارے قبضہ میں نہیں اور ہم شرعی نقطہ نگاہ سے جنگ نہیں کر سکتے ۔ گویا ہماری حالت صلح کی صورت میں بھی اور جنگ کی صورت میں بھی گلی طور پر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اُس کی رضا کو اختیار کرنا ہمارا سب سے پہلا اور اہم فرض ہے ۔ اگر ہم اپنے اس فرض کو ادا کر لیں تو یقیناً وہ کام جو ہم نہیں کر سکتے خدا اُسے خود پورا فرمائے گا۔ اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ خدائی طاقت اور قوت کی کوئی حد بندی نہیں ۔ بندے کی بڑی سے بڑی جدو جہد اور کوشش بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ جب خدا کرنے پر آتا ہے تو باوجود اس کے کہ دنیا ایک کام کو نا ممکن سمجھ رہی ہوتی ہے وہ ممکن ہو جاتا ہے ۔ شام کو وہ اس حالت میں سوتی ہے جب وہ اُسے ناممکن سمجھ رہی ہوتی ہے مگر جب صبح اٹھتی ہے تو اُسے وہ نا ممکن امر ممکن نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ صبح وہ ایک کام کو ممکن سمجھتی ہے مگر جب شام ہوتی ہے تو وہی ممکن امرا سے نا ممکن نظر آنے لگتا ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ہمارے سب کام کرنے ہیں اور اُسی پر بھروسہ کرنا ہمارا اولین کام ہونا چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے کاموں اور اپنی خوشیوں اور اپنی ہر قسم کی مصروفیتوں میں اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ راضی کرنے کی کوشش کریں اور اُس سے رات اور دن یہ دعا کرتے رہ ور دن یہ دعا کرتے رہیں کہ وہ اپنے فضل اور کرم سے ہماری وہ کوتا ہیاں اور غلطیاں جن کی وجہ سے عار عارضی طور پر ہم پر ہمیں اپنے مقام سے ہٹنا پڑا ہے معاف کر کے پھر ہمیں وہ مقام دلا دے تا دنیا کی نظروں میں عارضی طور پر جو اعتراض ہم پر عائد ہوتا ہے وہ دور ہو جائے اور قادیان جسے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ کا مرکز مقرر کیا ہے وہ دنیا میں