خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 1

1948ء 1 1 خطبات محمود " نماز خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کا ذریعہ ہے فرموده 2 جنوری 1948 ء بمقام رتن باغ لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پہلے تو میں نظارت تعلیم و تربیت کو اور ساتھ ہی صدر انجمن احمد یہ کو بھی ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف اُن کا ذہن جانا چاہیے تھا مگر گیا نہیں ۔ ہمارے ملک کے لوگوں کی یہ بد قسمتی ہے کہ وہ ہر کام کے متعلق اُس کام کا وقت گزر جانے کے بعد سوچا کرتے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ اس بات پر ہنسا کرتے ہیں کہ سکھ پہلے کام کرتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان بالکل سوچتا ہی نہیں۔ پہلے تو وہ بالکل غافل ہو کر سویا رہتا ہے اور جب مصیبت اُس کے سر سر پر آکھڑی ہوتی ہے تب وہ وہ سوچنا شروع کرتا کہ ہے کہ مجھے کیا کرنا کرنا چاہیے۔ حالانکہ سوچنے کا اصل وقت ماضی کی لپیٹ میں آچکا ہوتا ہے۔ اب دیکھ لو ہر شخص جانتا تھا کہ مشرقی پنجاب اور کا ماضی میں اب لو کہ دوسرے علاقوں سے مہاجرین آئیں گے اور سردی کے ایام میں آئیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ ان مہاجرین کو فوراً ہی ٹھکانوں پر نہیں پہنچایا جاسکے گا اور ان کے لیے کمبلوں اور لحافوں کی فوری طور پر ضرورت ہوگی۔ لیکن مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ افسرانِ متعلقہ کو کمبلوں اور لحافوں کا خیال 15 دسمبر کے بعد پیدا ہوا اور یہ وقت خیال پیدا ہونے کا نہ تھا بلکہ مہاجرین کو کمبل