خطبات محمود (جلد 28) — Page 82
سال 1947ء 82 خطبات محمود نہ بنیں ۔ اور ا مذہبی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن چونکہ ابھی ہماری پوزیشن ایسی نہیں کہ ہم سیاسی معاملات میں کوئی آواز بلند کر سکیں اِس لئے اِس معاملہ میں ہمارے لئے سوائے دعا کے اور کوئی چارہ باقی نہیں ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیئے کہ موجودہ تغیرات ملک کی تباہی اور بربادی کا موجب اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دونوں قوموں کے دماغوں کی اصلاح کر دے اور ہر ایک قوم دوسری قوم کے جائز حقوق خوشی سے دے دے ۔ ہندو مسلمانوں کے حقوق مارنے کی کوشش نہ کریں اور مسلمان ہندوؤں کے حقوق دبانے کی کوشش نہ کریں تا کہ ہمارا ملک لڑائی کی آگ سے بچ جائے اور ہماری تبلیغ کے راستے میں کوئی دیوار حائل نہ ہو۔ کیونکہ جب سیاسی اختلافات بڑھ جاتے ہیں تو لوگ دین کی باتوں کی طرف کم دھیان دیتے ہیں اور اُن کے دماغوں میں سیاسی ہیجان کی وجہ سے دین کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوسکتی ۔ پس ان دنوں تمام جماعت کو چاہیئے که خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں لگ جائے کہ اللہ تعالیٰ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے انصاف سے پیش آنے کی توفیق دے اور وہ آپس میں تعاون اور مفاہمت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہو جائیں ۔ اور ہر ایک قوم دوسری قوم کے متعلق عفو، درگزر سے کام لے تا کہ ہمارا ملک کامل آزادی کا منہ دیکھ سکے اور ہمارا ملک بھی آزاد ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔ اور تبلیغ کے لئے جو آسانیاں اور سہولتیں اب ہمیں حاصل ہیں ان میں جھگڑے اور فساد کی وجہ سے کوئی روک واقع نہ ہو جائے ۔ ان حالات میں دعاؤں کی چونکہ اشد ضرورت ہے اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ سات جمعراتوں کو جماعت کے دوست روزہ رکھیں ۔ چونکہ یہ خبر فوراً تمام علاقوں تک نہیں پہنچ سکتی اس لئے آئندہ جمعرات کی بجائے میں 20 مارچ سے زے رکھنے کا اعلان کرتا ہوں تا کہ باہر - ہوں تا کہ باہر کے لوگ بھی شامل ہوسکیں ۔ پہلا روز 200 مارچ کو، دوسرا روزہ 27 مارچ کو ، تیسرا روزہ 3 اپریل کو ، چوتھا روزہ 10 اپریل کو ، پانچواں روزہ 17 اپریل کو ، چھٹا روزہ 24 اپریل کو ، اور ساتواں روزہ یکم مئی کو ۔ اس طرح یکم مئی تک سات روزے ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد اگر یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قلوب کی اصلاح کر دی ہے اور خطرہ کے آثار دور ہو گئے ہیں تو صرف سات روزے ہی رکھے جائیں گے۔ لیکن اگر یہ محسوس ہوا کہ ابھی حالات میں کچھ تغیر پیدا نہیں ہوا تو پھر اس تحریک کو لمبا کر دیا